30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسکول سے چھٹی ہوتی تھی اس لئے جمعرات کو مل کر ٹی وی اور وی سی آر کرائے پر لاتے اور فلمیں ڈرامے دیکھنے میں ایسے مگن ہو جاتے کہ رات گزر جانے کا احساس بھی نہ ہوتا۔ فلموں ڈراموں کا یہ سلسلہ جمعہ کے مبارک دن میں بھی جاری رہتا۔ بقیہ ایام میں رات کا ایک حصہ کراٹے سیکھنے میں اور دن کھیل کے میدان میں کرکٹ کی نذر ہو جاتا۔ میری ان عادات کی وجہ سے گھر والے بے حد پریشان تھے۔ وہ مجھے سمجھاتے مگر میرے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ 1996ء کی بات ہے کہ ایک رات حسبِ معمول میں کراٹے کلب سے رات گئے گھر لوٹا تو والد صاحب نے دروازہ کھولا، مجھے دیکھتے ہی غصے سے آگ بگولا ہو گئے ، دروازہ بند کرتے ہی وِکٹ اٹھائی اور آؤ دیکھا نہ تاؤ مجھ پر وِکٹ برسانے لگے، والد صاحب کا ہاتھ تھا کہ رکنے کا نام نہ لے رہا تھا، مجھے اس قدر مارا کہ وِکٹ ٹوٹ گئی جب میری جان چھوٹی۔ میں ساری رات تکلیف کے مارے آہیں بھرتا رہا مگر میرے کرتوتوں کے باعث کسی نے میرا حال تک نہ پوچھا۔ والد صاحب سے اتنی مار کھانے کے باوجود بھی میں نے اپنی رَوِش تبدیل نہ کی بلکہ اپنے کام اسی طرح کرتا رہا۔ اتفاق سے ایک دن دادا جان کے ساتھ مسجد جانا ہوا، مسجد کی بابرکت فضا میں سکون کا احساس ہوا، بارگاہِ الٰہی میں سر بسجود ہونے کی سعادت ملی ، کرم بالائے کرم یہ کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ عاشقانِ رسول سے ملاقات ہو گئی جن کے چہروں پر عبادت کا نور نمایاں تھا ان کے سروں پر سبز سبز عمامے شریف کے تاج ، اور بدن پر سنّت کے مطابق سفید لباس ان کی شخصیت کو چار چاند لگا رہا تھا۔ مجھے ان کا یہ مدنی حُلیہ بہت اچھا لگا۔ نماز سے پہلے انہوں نے اپنے آپ کو خوشبوؤں سے معطر و معنبر کیا جس سے ارد گرد کی فضا میں بھینی بھینی خوشبو پھیل گئی۔ نماز کے بعدایک اسلامی بھائی نے درد بھرے انداز میں فکرِ آخرت پر مبنی بیان کیا۔ میں بھی قریب جا کر بیٹھ گیا اور بغور بیان سننے لگا مگر شاید قَساوَتِ قلبی کے باعث مجھ پر کوئی خاص اثر نہ ہوا اور میں حسبِ معمول اپنی موج مستیوں میں مگن ہو گیا۔ اسی دوران ماموں جان کے گھر پر منعقد ہونے والے اجتماعِ ذکر و نعت میں شرکت کی سعادت مل گئی۔یہاں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ وہی عاشقانِ رسول تشریف لائے تھے جن سے مسجد میں میری ملاقات ہوئی تھی۔ ایک اسلامی بھائی نے پرسوز آواز میں نعت شریف پڑھی اور پھر مبلّغِ دعوتِ اسلامی نے سادہ مگر دل میں اتر جانے والے انداز میں سنّتوں بھرا بیان فرمایا۔اجتماعِ ذکر و نعت کے بعد ملاقات فرماتے ہوئے مبلغِ دعوتِ اسلامی نے مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے تین روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی بھرپور ترغیب دلائی۔ پہلے پہل تو میں نے انکار کیا مگر ان کا اصرار جاری رہا، اب وہ اکیلے نہ تھے بلکہ میرے ماموں جان بھی ان کے ساتھ مل کر مجھے اجتماع میں شرکت کے لئے تیار کرنے لگے ان کی محبت بھری باتوں کے سامنے مجھے ہتھیار ڈالنا ہی پڑے اور بالآخر میں سنّتوں بھرے اجتماع کے لیے آمادہ ہو گیا۔ گھر والوں سے اجازت لے کر عاشقانِ رسول کے ہمراہ سنّتوں بھرے اجتماع کی پُرنور فضاؤں میں پہنچ گیا۔ جہاں عاشقانِ رسول کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ایمان کو تازگی فراہم کر رہا تھا۔ ہر طرف سبز سبز عماموں کی بہار ، دُرُود و سلام پڑھتے عاشقانِ رسول کی لمبی قطار ، سبھی کے چہروں پر مسکراہٹ اور اطمینان کے آثار، میرے دل کو چین و قرار دے کر نیکیوں کی محبت سے سرشار کر گئے۔ اجتماع کی رونق اور ذکر و دعا کی روحانیت دیکھ کر میں بہت حیران ہوا ، میں نے آج تک ایسا بارونق اجتماع نہیں دیکھا تھا، میں بھی اپنے خالی دامن میں علم و حکمت کے مدنی پھول سمیٹنے لگا، سنّتوں بھرے اجتماع کے پُرکیف لمحات سے عاشقانِ رسول محظوظ ہو رہے تھے کہ تیسرے دن اچانک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی ، اسلامی بھائی اِدھر اُدھر بھاگنے دوڑنے کی بجائے انتہائی آرام و سکون سے اپنا سامان محفوظ کر رہے تھے ، ان کا یہ انداز میرے دل میں گھر کر گیا۔ میں اجتماع سے واپس تو کیا لوٹا میرے تو وارے ہی نیارے ہو گئے ، دل نیکیوں کی طرف مائل ہو چکا تھا ابھی پندرہ بیس دن ہی گزرے تھے کہ ایک اسلامی بھائی نے مجھے چار دن کے مدنی قافلے کی دعوت دی، میں تو پہلے ہی دعوتِ اسلامی کو دل دے چکا تھا فوراً تیار ہو گیا۔ مدنی قافلے میں عاشقانِ رسول کی نیکی کی دعوت اور محبت بھرے انداز نے مجھے ایسا متأثر کیا کہ میں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور آتے ہی سبز عمامہ شریف