30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیشِ خِدْمَت ہیں :
)1( ٭میری اُمَّت کی بہترین عِبَادَت قرآنِ کریم پڑھنا ہے ۔ [1]
)2( ٭قرآنِ کریم پڑھا کرو! یہ قِیامَت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی[2] شَفَاعَت کرے گا ۔ [3]
)3( ٭جو شخصکتابُ اللہ میں سے ایک حَرْف پڑھے گاتو اسے ایک نیکی ملے گی اور یہ ایک نیکی 10 نیکیوں کے برابر ہو گی ، میں نہیں کہتا کہ الۤمّ ایک حَرْف ہے بلکہ الف ایک حَرْف ، لام ایک حَرْف اور میم ایک حَرْف ہے ۔ [4]
( 4 )٭جس نے قرآنِ کریم کی کوئی آیَتِ مُبارَکہ تِلاوَت کی تو وہ اس کے لئے قِیامَت کے دن نُور ہو گی ۔ [5]
( 5 )٭قرآنِ کریم دیکھ کر پڑھنے والے کی فَضِیْلَت اس شخص پر جو بغیر دیکھے پڑھے ، ایسی ہے جیسے فرض کی فَضِیْلَت نَفْل پر ۔ [6]
( 6 )٭ جو شخص پورا قرآنِ کریم دیکھ کر پڑھے تو اللہ پاک اس کے لئے جَنّت میں ایک دَرَخْت لگا دیتا ہے ۔ [7]
( 7 )٭ جو شخص قرآنِ کریم دیکھ کر تِلاوَت کرے اس کو 2000 نیکیاں ملیں گی اور جو زبانی پڑھے اس کو 1000 نیکیاں ملیں گی ۔ [8]
( 8 )٭ جو شخص دیکھ کر قرآنِ کریم پڑھنے کا عادی ہو تو جب تک دنیا میں رہے گا اس کی بینائی مَحْفُوظ رہے گی ۔ [9]
( 9 )٭قرآنِ کریم پڑھنے میں مَہارت رکھنے والا کِرَامًا کاتِـبِیْن کے ساتھ ہے اور جو مَشَقَّت کے ساتھ اٹک اٹک کر قرآنِ کریم پڑھتا ہے [10] اس کیلئے دُگْنا ثواب ہے ۔ [11]
زمانۂ نبوی میں قرآنِ پاک سیکھنے کا مبارک انداز
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اَکْثَر و بیشتر بارگاہِ رِسَالَت مآب میں حاضِر رہتے اور حُضورِ پاک ، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے ان جانثاروں کی تعلیم و تَرْبِیَت کا خوب اِہتِمام فرمایا کرتے ۔ دِن ہو یا رات ، سَفَر ہو یا حضر ، حَالَت جنگ کی ہو یا اَمْن کی ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو اِسْلَامی احکامات سکھاتے ہی رہتے ، اسی تَرْبِیَت میں قرآنِ پاک سیکھنے سکھانے کے حلقے بھی ہوا کرتے تھے ، چُنَانْچِہ حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے قرآنِ کریم سیکھنے کے مُتَعَلِّق فرماتے ہیں : جب ہم سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قرآنِ کریم کی 10آیات سیکھ لیتے تو اس کے بعد والی 10 آیات اس وَقْت تک نہ سیکھتے جب تک ان سیکھی
[1] شعب الایمان ، باب فی تعظیم القرآن ، فصل فی ادمان تلاوته ، ۲ / ۳۵۴ ، حدیث : ۲۰۲۲
[2] مَشْہُور مُفسِّرِ قرآن ، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ مُبارَکہ کے تَحْت فرماتے ہیں : ( پڑھنے والوں سے اگرچہ )قرآن کی تِلاوَت کرنے والے ، اس کو سیکھنے سکھانے اور اس پر عَمَل کرنے والے سب ہی مُراد ہوتے ہیں مگر یہاں تِلاوَت کرنے والے مُراد ہیں۔
( مراٰ ۃ المناجیح ، قرآنِ پاک کے فضائل ، پہلی فصل ، ۳ / ۲۲۶ )
[3] مسلم ، کتاب صلاة ... الخ ، باب فضل قراءة ... الخ ، ص۲۹۰ ، حدیث : ۲۵۲( ۸۰۴ )
[4] تر مذی ، کتاب فضائل القرآن ، باب ماجاء فی من قرأ ... الخ ، ص۶۷۶ ، حديث : ۲۹۱۰
[5] مسند احمد ، مسند ابی هریرة ، ۴ / ۳۴۲ ، حدیث : ۸۷۱۸
[6] كنز العمال ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع