دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Madinay ki Machli | مدینے کی مچھلی

book_icon
مدینے کی مچھلی

ہماری اسلامی بہنیں بھی خوب سونا جمع کرنے کی شوقین ہوتی ہیں ،  سارا سونا اورمال لٹا دینا تو ایک طرف رہا اپنے سونے کی زکوٰۃ تک ادا کرنے کیلئے بعض خواتین تیّار نہیں ہوتیں ! اور نفس و شیطٰن کے بہکاوے میں آ کر کہتی سنائی دیتی ہیں کہ ہم کماتی نہیں ہیں ،  زکوٰۃ تو وہ ادا کریں جو کماتے ہیں !  حالانکہ ایسا نہیں ،  اگر سونے کے زیور وغیرہ کسی کے پاس ہوں اور زکوٰۃ کے شرائط پائے جائیں تو زکوٰۃ فرض ہو جائیگی۔ سونے (GOLD)  سے پیار کرنے میں حد سے بڑھنے والیاں ایک عبرت انگیز حدیثِ پاک سنیں اورخوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے لرزیں اورآج تک گزشتہ زندگی کی جتنی زکوٰۃ ذمّے ہے حساب لگا کر فوری طور پرساری کی ساری ادا کر دیں اور بِلااجازتِ شَرعی ہونے والی تاخیر کی توبہ بھی کریں ۔

آگ کے کنگن

            نبیِّ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم،  شاہِ آدم و بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کے دربارِگُہر بار میں دو  عورَتیں حاضِر ہوئیں ،  ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے ۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ان سے اِستِفسار فرمایایعنی پوچھا: تم اِن کی زکوٰۃ دیتی ہو ؟  وہ بولیں :  نہیں ۔ فرمایا: کیا تم پسند کرتی ہو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ؟  وہ بولیں: نہیں۔ تو فرمایا : ان کی زکوٰۃ دیا کرو۔ ( تِرمِذیج۲ص۱۳۲ حدیث ۶۳۷ )   زکوٰۃ کی تفصیلی معلومات کے لئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ491 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ فیضانِ زکوٰۃ ‘‘  کامُطالَعہ نہایت مفید ہے ۔

بی بی فاطِمہ کا ایثار

           راکبِدوشِ مصطَفٰے ،  سیِّدالْاَ سْخِیا،  امامِ ہُمام سیِّدُنا امام حسن مُجتَبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ایک روز ایک وقت کے فاقے کے بعد ہمارے یہاں کھانے کی ترکیب بنی،  میرے بابا جان مولیٰ مشکلکشا،  علیُّ المرتَضیٰ شیرِ خداکَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور میرے چھوٹے بھائی حضرتِ امام حُسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کھانے سے فارغ ہو چکے تھے مگر امّی جان سیِّدۃ ُالنِّسا فاطِمۃُ الزَّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ابھی نہیں کھایا تھا ،  انہوں نے جونہی روٹی پر ہاتھ بڑھایا کہ دروازے پر ایک سائل نے صدا دی: ’’  اے بنتِ رسولُ اللّٰہ!  میں دو وَقت کا بھوکا ہوں میرا پیٹ بھر دیجئے۔ ‘‘  امّی جان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نے فوراً کھا نے سے ہاتھ روک لیا اور مجھے حکم دیا کہ جاؤ !  یہ کھانا سائل کو پیش کر دو،  مجھے تو ایک وَقت کا فاقہ ہے اور اس نے دو وَقت سے نہیں کھایا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

بھوکے رہ کے خود اوروں کو کھلا دیتے تھے

کیسے صابر تھے محمد کے گھرانے والے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کِھلانے پلانے کا عظیمُ الشّان ثواب

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے !  سیِّدہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فاقے کے باوُجُود اپنا کھانا ایثار فرما دیا ! افسوس! اہلِ بیتِ نبُوَّت سے محبت کا دم بھرنے کے باوجُود ہم اپنی ضرورت کا کُجا بچا کُھچا کھانا بھی کسی کو پیش کرنے کے بجائے آیندہ کیلئے فریج میں رکھ چھوڑتے ہیں ۔ یقین مانئے!  بھوکوں کوکھانا کھلانااور پیاسوں کوپانی پلانا بڑے ثواب کا کام ہے۔ اِس ضِمن میں دو فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  مُلاحظہ ہوں :  {1}  جو مسلمان کسی مسلمان کو بھوک میں کھانا کھِلائے،  تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے بروزِ قیامت جنت کے پھل کھلائے گا اور جو کسی مسلمان کو پیاس میں پانی پلائے ، تو اللہ تَعَالٰی اُسے بروزِ قِیامت مُہر والی پاک وصاف شراب پلائے گا او ر جو مسلمان کسی بے لباس  مسلما ن کو  کپڑا پہنائے،  تو اللہ تَعَالٰیاُسے جنت کے سبز کپڑے پہنائے گا۔ (تِرمذی  ج۴ ص۲۰۴حدیث ۷ ۵ ۴ ۲ )   {2} جو کسی مسلمان کو بھوک میں کھانا کھلاکر سیر کردے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُسے جنت میں اُس دروازے سے داخِل فرمائے گا جس میں سے اس جیسے لوگ ہی داخِل ہوں گے۔ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر لِلطّبَرانی ج ۲۰ ص ۸۵حدیث ۱۶۲)

کھلانے پلانے کی توفیق دیدے

پئے شاہِ کرب و بلا یا الٰہی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

انوکھا دسترخوان

            حضرتِ سیِّدُناشیخ ابوالحسن انطاکی علیہ رحمۃُ اللّٰہ الباقی کے پاس ایک بار بَہُت سے مہمان تشریف لے آئے ۔رات جب کھانے کا وَقت آیا تو روٹیاں کم تھیں ،  چُنانچِہ روٹیوں کے ٹکڑے کر کے دَسترخوان پر ڈالدئیے گئے اوروہاں سے چَراغ اُٹھا دیاگیا ،  سب کے سب مہمان اندھیرے ہی میں دَسترخوان پر بیٹھ گئے ،  جب کچھ دیر بعد یہ سوچ کر کہ سب کھاچکے ہونگے چَراغ لایاگیا تو تمام ٹکڑے جُوں کے تُوں موجود تھے ۔ ایثار کے جذبے کے تحت ایک لقمہ بھی کسی نے نہ کھایا تھاکیونکہ ہر ایک کی یِہی مَدَنی سوچ تھی کہ میں نہ کھائوں تاکہ ساتھ والے اسلامی بھائی کا پیٹ بھر جائے ۔ ( اِتحافُ السّادَۃج۹ ص ۷۸۳ )   اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

اپنی ضَرورت کی چیز دے دینے کی فضیلت

             اللّٰہ!  اللّٰہ ! ہمارے اَسلاف کا جذبۂ ایثار کس قَدَر حیرت ناک تھا اور آہ!  آج ہمارا جذبۂ حِرص وطَمع کہ جب کسی دعوت میں ہوں اورکھانا شروع کیا جائے تو  ’’

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن