30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب:مَاشَآءَ اللہ عزمِ بغداد مُبارَک ہو۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مزاراتِ اَولیا پر حاضری کا اَدب یہ لکھا ہے کہ مزار شریف سے چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو یعنی تقریباً دو گز یا دو میٹر دور۔ ([1])اسی طرح سنہری جالیوں سے بھی دو گز دور رہے۔
گملوں میں آبِ زَم زَم شریف ڈالنا کیسا؟
سُوال: کیا آبِ زَم زَم پودوں کو لگا سکتے ہیں؟
جواب:اگر ان پودوں کی مٹی پاک ہے اور بَرکت کے لیے ڈالتے ہیں تو ڈال دیں ، بعض اوقات پاک پانی یا دَم کیا ہوا پانی پھینکنا ہوتو کہتے ہیں اس کو گملے میں ڈال دو ، اس کے لیے بھی یہ ہی مسئلہ ہے کہ اگر اس میں پاک مٹی ہے تو پانی ڈال سکتے ہیں۔ کراچی میں ایک قسم کی مٹی آتی ہے جس میں پاک کھاد ملاکر آرٹیفیشل کھاد تیار کی جاتی ہے اگر ایسا ہے تو پاک کھاد میں یہ پانی ڈال سکتے ہیں۔ ([2])
عام طور پر پودوں میں جو کھاد ڈالی جاتی ہے وہ کھاد پاک نہیں ہوتی۔ کراچی میں جو کھاد گملوں کے لیے دی جاتی ہے وہ جس جگہ سے آتی ہے اسے “ گٹر باغیچہ “ کہتے ہیں جہاں شہر کے گٹروں کا کچرا اور کیچڑ جمع ہوتی ہے ، جب یہ مزید سڑ جاتی ہے تو اس کی گاڑیاں بھر بھر کر کھاد کے نام پر بیچ دی جاتی ہیں۔ گھروں میں رکھے ہوئے گملوں میں بھی اِسی “ گٹر باغیچے “ کی کھاد ہوتی ہے۔
ڈیوٹی کیے بغیر تنخواہ لینا کیسا؟
سُوال:ایک شخص گورنمنٹ ملازم ہے مگر ڈیوٹی پر نہیں جاتا اور ہر مہینے پہلی کو تنخواہ لے لیتا ہے ، کیا اس کا یہ طریقہ دُرُست ہے؟ اور وہ خیر خیرات بھی کرتا رہتا ہے کیا اس کا خیرات کرنا جائز ہے؟
جواب:اگر وہ ڈیوٹی نہیں دیتا اور دھوکے سے تنخواہ بٹور لیتا ہے تو یہ پوری کی پوری تنخواہ حرام ہے۔ ([3]) اس کے ذَریعے زکاۃ خیرات بھی نہیں کرسکتا کیونکہ یہ اس کے پیسے ہیں ہی نہیں نہ یہ ان کا مالک ہے اگرچہ ان پر قبضہ اِسی کا ہو ، اس پر فرض ہے کہ جہاں سے یہ رقم بٹوری ہے وہاں واپس کرے اور ساتھ ساتھ توبہ بھی کرے۔ ([4])
کیا بچے اپنی جیب خرچی سے نیاز دِلواسکتے ہیں؟
سُوال: کیا سات سال کے بچے اپنی جیب خرچی سے نیاز دِلوا سکتے ہیں؟
جواب:نابالغ بچے اپنی ذاتی رقم سے نیاز نہیں کر سکتے۔ ہاں!یہ کر سکتے ہیں کہ نیاز دے کر خود کھا لیں کسی اور کو نہ کھلائیں۔
سُوال: کیا ناول پڑھنا جائز ہے ؟ (یوٹیوب کے ذَریعے سُوال)
جواب:جیسا ناول ویسا حکم ، عام طور پر ناول عِشق و فِسق کے قصوں سے بھر پور ہوتے ہیں اور بہت مُبالغہ آرائی ہوتی ہے ، بعض تاریخی ناول بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال اگر شریعت کے مُطابق کوئی ناول مل جاتا ہے اور عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللہُ السَّلَام اس کی تَصدیق فرماتے ہیں تو بھلے پڑھیں۔
اگر ٹینک میں بلی گر جائے تو پانی کا کیا حکم ہو گا؟
سُوال:اگر پانی کے ٹینک میں بِلی گِر جائے تو اس کے پانی کا کیا حکم ہوگا؟
جواب:زندہ گِری اور نکل کر بھاگ گئی تو پانی کو ناپاک نہیں کہیں گے کیونکہ اس کے جسم پر نجاست کا لگا ہونا یقینی نہیں ہے ۔ ([5])
عمامے شریف کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مقدار
سُوال: عمامے کی مقدار زیادہ سے زیادہ کتنی ہونی چاہیے اور کم سے کم کتنی ہونی چاہیے؟
جواب:میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ایک سُوال کے جواب میں فرماتے ہیں : عمامے میں سنَّت یہ ہے کہ ڈھائی گز سے کم نہ ہو اور چھ گز سے زیادہ نہ
[1] فتاویٰ رضویہ ، ۹ / ۵۲۲۔
[2] حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح ، کتاب الطھارة ، ص۲۲ مفھوماً۔
[3] فتاویٰ رضویہ ، ۱۹ / ۴۰۷ ماخوذاً۔ حلال طریقے سے کمانے کے 50 مدنی پھول ، ص ۲۰-۲۱ ملخصاً۔
[4] فتاویٰ رضویہ ، ۱۹ / ۶۵۶تا ۶۶۱ ملخصاً۔
[5] فتاویٰ امجدیہ ، ۱ / ۲۶ ماخوذاً۔ (کوئیں میں)مرغا ، مرغی ، بلّی ، چوہا ، چھپکلی یا اور کوئی دَموی جانور (جس میں بہتا ہوا خون ہو) اس میں مر کر پُھول جائے یا پھٹ جائے کل(یعنی پورا) پانی نکالا جائے۔ اگر یہ سب باہر مرے پھر کوئیں میں گر گئے جب بھی یہی حکم ہے۔ مرغی ، بلّی (اس میں)گر کر مرے تو چالیس ۴۰ سے ساٹھ ۶۰ (ڈول ) تک(پانی نکالیں گے جبکہ پھولی پھٹی نہ ہوں) دو ۲ بلّیاں مر جائیں تو سب نکالا جائے۔ نیزسوئر کے سوا اگر اور کوئی جانور کوئیں میں گرا اور زندہ نکل آیا اور اس کے جسم میں نَجاست لگی ہونا یقینی معلوم نہ ہو ، اور پانی میں اس کا مونھ نہ پڑا تو پانی پاک ہے ، اس کا استعمال جائز ، مگر احتیاطاً بیس ۲۰ ڈول نکالنا بہتر ہے اور اگر اس کے بدن پر نجاست لگی ہونا یقینی معلوم ہو تو کل پانی نکالا جائے اور اگر اس کا مونھ پانی میں پڑا تو اس کے لُعاب اور جھوٹے کا جو حکم ہے وہی حکم اس پانی کا ہے۔ اگر جھوٹا ناپاک ہے یا مشکوک تو کل پانی نکالا جائے اور اگر مکروہ ہے تو چوہے وغیرہ میں بیس ۲۰ ڈول ، مرغی چھوٹی ہوئی میں چالیس ۴۰ اور جس کا جھوٹا پاک ہے اس میں بھی بیس ۲۰ ڈول نکالنا بہتر ہے ، مثلاً بکری گری اور زندہ نکل آئی ، بیس ۲۰ ڈول نکال ڈالیں۔ (بہارِ شریعت ، ۱ / ۳۳۶-۳۳۷ ملتقطاً) 2 فتاویٰ رضویہ ، ۲۲ / ۱۸۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع