30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال:میں بہت کمزور ہوں مجھے موٹا ہونے کا کوئی وظیفہ بتا دیجیے۔
جواب:جمعہ کے دِن عصر کی نماز پڑھنے کے بعد اُسی جگہ بیٹھے بیٹھے یَااَللہُ ، یَارَحْمٰنُ ، یَارَحِیْمُ مسلسل پڑھتے رہیں اور اَوَّل آخر کوئی بھی دُرُود شریف پڑھ لیں ، بیچ میں بھی موقع بموقع دُرُودِ پاک پڑھیں۔ جب سورج ڈوب جائے تو اپنے اس مقصد کے لیے اللہ پاک کی بارگاہ میں گِڑگِڑا کر دُعا کریں ، اللہ پاک مہربانی فرمائے گا۔
سُوال:جنَّت کا موسم کیسا ہو گا؟
جواب:جنَّت میں تو بہاریں ہی بہاریں ہیں ، وہاں کاموسم بھی سُہانا ہو گا یعنی صبح کے جیسا ٹھنڈا ٹھنڈا موسم ہو گا اور روشنی بھی صبح کی روشنی کی طرح ہو گی۔ جنَّت میں نہ زیادہ ٹھنڈک ہو گی کہ تکلیف کا باعث بنے نہ زیادہ گرمی ہو گی کہ اِیذا کا سبب ہو۔ ([1]) نہ بارشوں کے بہاؤ ہوں گے نہ سیلاب اور زَلزلے کی آزمائِش ، کسی قسم کی بَدمزگی ، لڑائی ، جھگڑا ، حسد ، غیبت اور ایک دوسرے سے جَلنا وغیرہ کوئی چیز نہیں ہو گی بلکہ ہر طرف امن ، چین سکون اور راحت ہو گی اللہ پاک نصیب کرے اور پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا پڑوس ہمارا مُقدر فرمائے۔
سُوال: سورۂ کوثر کا شانِ نُزول کیا ہے؟ (بہاولپور سے سُوال)
جواب:جب سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے فرزندِ اَرْجُمند حضرتِ سَیِّدُنا قاسم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا وصالِ باکمال ہوا تو کفار نے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو مَعَاذَ اللّٰہ “ اَبْتَر “ یعنی نسل ختم ہوجانے والا کہا اور یہ بھی کہا کہ ان کے بعد ان کا ذِکر کرنے والا کوئی نہیں ہو گا یہ سب چرچا ختم ہو جائے گا۔ اس پر یہ سورۂ مُبارَکہ نازل ہوئی جس میںاللہپاک نے ان کفار کا مکمل رَد کر دیا اور اِرشاد فرمایا : اے حبیب! بے شک تمہارا دُشمن ہی ہر بھلائی سے محروم ہے نہ کہ آپ ، آپ کا سِلسِلہ قیامت تک جاری رہے گا ، آپ کی اَولاد میں بھی کثرت ہو گی اور آپ کی پیروی کرنے والوں سےدُنیا بھر جائے گی ، آپ کا ذِکر منبروں پر بلند ہوگا ، قیامت تک پیدا ہونے والے عالِم اور واعظ اللہپاک کے ذِکر کے ساتھ آپ کا ذِکر کرتے رہیں گے اور آخرت میں آپ کے لیے وہ کچھ ہے جس کا کوئی وَصف اورخوبی بیان ہی نہیں کی جاسکتی تو جس کی یہ شان ہو وہ “ اَبْتَر “ کہاں ہوا؟ بے نام ونشان اور ہر بھلائی سے محروم تو آپ کے دُشمن ہیں۔ ([2])
رہے گا یوں ہی اُن کا چَرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جَل جانے والے (حدائقِ بخشش)
فوت شُدہ والدین پر اَولاد کے اَعمال پیش کیے جاتے ہیں
سُوال:کیا والدین کو ان کی قبر میں اپنی اَولاد کی زندگی کے بارے میں پتا چل سکتا ہے؟ (سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)
جواب:فوت شُدہ والدین پر ہر جمعہ کو ان کی اَولاد کے اچھے بُرے اَعمال پیش ہوتے ہیں ، جب اَولاد کی نیکیاں دیکھتے ہیں تو ان کا چہرہ خوشی سے کِھل اُٹھتا ہے ، اس پر خوشی کے آثار ہوتے ہیں اور جب بُرائیاں اور گناہ دیکھتے ہیں تو ان کے چہرے پر کَدُوْرَت کے آثار ہوتے ہیں۔ ([3]) یعنی ان کا چہرہ مُرجھا جاتا ہے ۔
سُوال:بیوی اپنے شوہر یا اس کے گھر والوں کی باتیں اپنے گھر(یعنی میکے) والوں سے کر سکتی ہے یا نہیں؟نیز اس میں کوئی گناہ تو نہیں ہوگا؟ (SMS کے ذَریعے سُوال)
جواب:اگر اچھی باتیں کرنی ہیں تو حرج نہیں ہے ، اچھی باتیں واقعی اچھی ہوں جھوٹ نہ ہو۔ سُوال میں شاید بُرائیاں بیان کرنا مُراد ہے ، ظاہر ہے بُرائی تو کسی طرح بیان کرنے کی اِجازت نہیں ہو گی کہ یہ غیبت ہے اور غیبت گناہ ہے۔ بعض عورتیں اپنے شوہر اور سُسرال کی منفی باتیں بیان کرتی ہیں کہ شوہر ایسے تنگ کرتا ہے ، ساس یوں کرتی ہے اور پھر یہ باتیں سُن کر عورت کے میکے والے بھی اس کو وَرغلانا شروع کر دیتے ہیں ، اس کے کان بھرتے ہیں اور نتیجۃً گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ سب اِسی غیبت کی وجہ سے ہوا ہوتا ہے ، غیبت واقعی بہت ساری خرابیاں پیدا کرتی ہے۔
بہتر اور مُناسب یہی ہے کہ بیوی اپنے شوہر اور ساس کی باتیں میکے میں نہ کرے ، اِسی طرح ساس کو بھی چاہیے کہ اپنے بیٹے کو اس کی بیوی کی کمزوریاں نہ بتائے کہ آج اس نے میرے سامنے جواب دیا ، میں نے کام کا بولا تو اس نے سر درد کا بہانہ کر دیا ، اگر بہو نے سردرد کا عُذر پیش کیا بھی ہے تو ساس کو چاہیے غور کرلے کہ بہو نے بہانہ ہی کیا ہے یا واقعی اس بے چاری کےسر میں دَرد تھا! اس طرح خواہ مخواہ گناہوں بھری گفتگو ہوجاتی ہے پھر شوہر بگڑجاتا ہے۔ اگر شوہر کو غصہ نہ آئے تو ساس اس کو چَڑھاتی ہے کہ تیری بیوی
[1] تفسیر روح البیان ، پ۱۶ ، المریم ، تحت الآية : ۵ ، ۶۲ / ۳۴۵ ماخوذاً ۔ تفسیر نسفی ، پ ۲۹ ، الانسان (ای : الدھر) ، تحت الآیة : ۱۳ ، ص ۱۳۰۷۔
[2] تفسیر نسفی ، پ۳۰ ، الکوثر ، تحت الآیة : ۱۳ ، ص ۱۳۷۸۔ تفسیر صراط الجنان ، پ ۳۰ ، الکوثر ، تحت الآیۃ : ۳ ، ۱۰ / ۸۴۷۔
[3] نوادر الاصول ، الاصل التاسع والستون والماة ، الجزء : ۱ ، ص ۶۷۱ ، حدیث : ۹۲۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع