دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Madani Qalam Ki Anokhi Hikayat | مدنی قلم کی انوکھی حکایت

book_icon
مدنی قلم کی انوکھی حکایت

سُوال: کنیت کا کیا مَطلب ہے؟

جواب: اصل نام کے علاوہ وہ نام جس سے پہلے اَبُو ، اِبن ، اُم یا  بِنت وغیرہ موجود ہو اس کو “  کنیت “ کہا جاتا ہے([1]) جیسے اِبنِ ہشام ، اُمِّ ہانی ، بنتِ حوّا۔  کنیت کبھی باپ کی نسبت سے رکھی جاتی ہے کبھی بیٹے یا بیٹی کی  نسبت سے رکھی جاتی ہے۔  

پڑوسیوں کے حقوق

سُوال: جس طرح ہمیں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کا خیال رکھنا چاہیے کیا اس طرح پڑوسیوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے؟  کیا پڑوسیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں؟ (UK کے ایک اسلامی بھائی کا سُوال)

جواب:جس طرح ماں باپ کے حقوق ہیں اسی طرح بہن بھائی ، اَولاد اور اَولاد کی ماں کے بھی حقوق ہیں ، یوں ہی پڑوسیوں کے بھی حقوق ہیں۔ پڑوسیوں کی تین قسمیں ہیں : (1)پڑوسی بھی ہے اور رِشتہ دار بھی ، اس کے ساتھ حقِ پڑوس بھی وابستہ ہے اور حقِ رِشتہ داری بھی تو اس سے صِلۂ رحمی بھی کرنی ہو گی اور اگر مسلمان ہے تو حقِ اِسلام کا پاس بھی رکھنا ہو گا۔ (2) صرف پڑوسی ہے اور مسلمان ہے تو اس کے ساتھ دو حق وابستہ ہیں ایک حقِ اِسلام اور دوسرا حقِ پڑوس۔ (3) اگر غیر مسلم ہے تو صرف حقِ پڑوس ہے۔ (2)

صحیح بخاری اور مُسلم میں حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   سے رِوایت ہے کہ رَسُوْلُ اللہ   صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے اِرشاد فرمایا : خُدا کی قسم وہ مؤمن نہیں ، خُدا کی قسم وہ مؤمن نہیں ، خُدا کی قسم وہ مؤمن نہیں!عرض کی گئی : یَارَسُوْلَ اللہ   صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کون(مومن نہیں)؟فرمایا : وہ شخص جس کے پڑوسی اس کی آفتوں سے محفوظ نہ ہوں یعنی وہ شخص جو اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دیتا ہے۔ (3)میر ے آقا   صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے تین بار قسم اِرشاد فرمائی اور تاکیداً فرمایا کہ وہ مؤمن  نہیں ہے۔ اِس کا مَطلب ہے جو شخص پڑوسیوں کو تکلیف دے اور وہ اس سے محفوظ نہ ہوں تو یہ شخص کامل اِیمان والا نہیں ہے۔ ([2])آج کل اپنے پڑوسیوں کو طرح طرح سے تنگ کیا جاتا ہے ، کبھی ڈسٹ بن سے کچرے کی تھیلی اُٹھاکر چپکے سے اس کے دَروازے کے آگے رکھ کر بھاگ جاتے ہیں ، کبھی اس کے دَروازے کے آگے پانی بہا کر تکلیف دیتے ہیں ، اگر چند منزلہ عمارت ہے تو آرام  کے وقت میز کُرسیاں گھسیٹ کر آرام میں خَلل ڈالتے ہیں یا بچے زور زور سے شور شرابا کرتے ہوئے کھیلیں گے ، چیزیں پھینکیں گے تو دِیگر گھر والے انہیں روکیں گے نہیں اور دوسری منزل والے کی آنکھ کھل جائے گی ، کبھی اس بے چارے کا پانی بند کر دیں گے تو کبھی بارش کے پانی کا رُخ اس کی طرف کر دیں گے ، کوئی چیز جھاڑیں گے تو دھول اس بے چارے کے گھر میں جانے دیں گے ، نہ جانے پڑوسیوں کو کیسی کیسی تکلیفیں دیں گے اور جب وہ بے چارہ فریاد لے کر آئے گا تو اس کی کوئی شِنوائی بھی نہیں ہو گی۔ غور کر لیجیے! پڑوسی کو تکلیف دینے کی کتنی بڑی خرابی اور بَدنصیبی ہے۔

صحیح مُسلم میں حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   سے رِوایت ہے کہ رَسُوْلُ اللہ   صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے فرمایا : وہ جنَّت میں نہیں جائے گا جس کا پڑوسی اس کی آفتوں سے امن میں نہیں۔ (2)یعنی جو پڑوسیوں کو تکلیف دیتا ہےاور اس کے پڑوسی اس سے امن میں نہیں ہوتے وہ جنَّت میں نہیں جائے گا۔

یاد رَکھیے!اِس طرح کی اَحادیثِ مُبارَکہ کا مَطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر خاتمہ اِیمان پر ہوا تو سزا پانے کے بعد جنَّت میں جائے گا۔ (3)اگر اللہپاک چاہے تو بے حِساب بخش دے یہ اس کی رَحمت ہے ، تاہم یہ وعیدیں  معمولی نہیں ہیں۔

 اگر پڑوسی کو ستایا اور اس کی بَددُعا لگ گئی اور اس  کی وجہ سے اِیمان بَرباد ہوگیا تو کبھی بھی جنَّت میں داخلہ نہیں ملے گا بلکہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ ہم بُرے خاتمے سے اللہپاک کی پناہ مانگتے ہیں۔ اپنا ذہن بنا لیجیے کہ کبھی بھی پڑوسی کو تکلیف نہیں دینی حتّٰی کہ اگر وہ تکلیف پہنچائے تب بھی صبر ہی کرنا ہے اِسی میں عافیت ہے۔

پڑوسیوں کو تکلیف دینا گوارا   نہ کیا (حکایت)

سُوال:پڑوسیوں کے حقوق کے مُعاملے میں پہلے کے لوگوں  کا کیا طرزِ عمل تھا؟ ([3])

 



[1]    التعریفات للجرجانی ، باب الکاف ، ص۱۳۶۔  2    مسند الشامیین ، عطاء عن الحسن بن ابی الحسن البصری ، ۳ /  ۳۵۶ ، حدیث : ۲۴۵۸۔

3    بخاری ،  کتاب الادب ،  باب اثم من لا یامن جارہ بوائقه ، ۴ / ۱۰۴ ، حدیث :  ۶۰۱۶۔

[2]    اِس حدیثِ پاک کے تحت حکیمُ الامَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خانرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ لکھتے ہیں : تین بار فرمانا تاکید کے لئے ہے ، ’’لَا  یُؤْمِنُ‘‘ میں کمالِ اِیمان کی نفی ہے ، یعنی مؤمنِ کامل نہیں ہو سکتا ، نہیں ہوسکتا ، نہیں ہوسکتا ۔ حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس کی وضاحت پہلے ہی نہ فرمادی ، بلکہ سائل کے پوچھنے پر بتایا ، تاکہ سننے والوں کے دِل میں یہ بات بیٹھ جائے ، جو بات اِنتظار اورپوچھ گچھ کے بعد معلوم ہو وہ بہت دِلنشین ہوتی ہے ، اگرچہ ہر مسلمان کو اپنی شَر سے بچانا ضروری ہے مگر پڑوسی کو بچانا نہایت ہی ضَروری کہ اس سے ہر وقت کام رہتا ہے ، وہ ہمارے اچھے اَخلاق کا زیادہ مستحق ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۶ / ۵۵۵) 2    مسلم ، کتاب الایمان ،  باب بیان تحریم ایذاء الجار ، ص ۴۸ ،  حدیث : ۱۷۱۔

3    حضرتِ سَیِّدُنا امام یحییٰ بن شرفُ الدین نووی   رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   فرماتے ہیں : (جن اَحادیث میں اِس طرح کی وعید آئی ہے اس سے مُراد یہ ہے کہ) اگروہ شخص اِس فعل کو حلال سمجھ کر کرے  تو اس صورت میں جنَّت دائمی طور پر اس کے لئے حرام ہو جائے گی اور اگر حرام جاننے کے باوجود یہ فعل کرے تو اِبتدا میں  اُسے جنَّت میں داخل ہونے سے روک دیا جائے گا اور وہ اپنے گناہ کی سزا پانے کے بعد جنَّت میں داخل ہوگا ۔

 (شرح صحیح مسلم ، کتاب الايمان ، باب بيان حال ايمان من رغب عن ابیه...الخ ، الجزء : ۲ ،  ۱ / ۵۲)

[3]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اَہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے۔        (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن