دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Madani Panj Surah | مدنی پنج سورہ

duaye maghfirat karnay ki fazeelat ka bayan

book_icon
مدنی پنج سورہ
            

دوسروں کیلئے دعائے مغفِرت کرنے کی فضیلت

’’ جو کوئی تمام مومن مردوں اور عورتوں کیلئے دعائے مغفِرت کرتا ہے، اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کیلئے ہر مومن مرد و عورت کے عِوَض ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔‘‘ ( مَجْمَعُ الزَّوَائِد ج ۱۰ ص ۳۵۲ حدیث ۱۷۵۹۸) صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اربوں نیکیاں کمانے کا آسان نسخہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جھوم جائیے ! اربوں ، کھربوں نیکیاں کمانے کا آسان نسخہ ہاتھ آگیا! ظاہر ہے اس وقت روئے زمین پر کروڑوں مسلمان موجود ہیں اور کروڑوں بلکہ اربوں دنیا سے چل بسے ہیں ۔ اگر ہم ساری اُمت کی مغفرت کیلئے دعا کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اَربوں ، کھربوں نیکیوں کا خزانہ مل جائے گا۔ میں اپنے لیے اور تمام مؤمنین و مؤمنات کیلئے دعاتحریر کردیتا ہوں ۔ (اوّل آخر درود شریف پڑھ لیں ) اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ڈھیروں نیکیاں ہاتھ آئیں گی۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَلِکُلِّ مُؤْمِنٍ وَّمُؤْمِنَۃٍ ۔یعنی اے اللہ میری اور ہر مومن ومومنہ کی مغفرت فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم آپ بھی اوپر دی ہوئی دعا کو عربی یا اردو یا دونو ں زبانوں میں ابھی اور ہو سکے تو روزانہ پانچوں نمازوں کے بعد بھی پڑھنے کی عادت بنالیجئے۔ بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل نام غفار ہے تِرا یارب! صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نورانی لباس

ایک بُزُرگ نے اپنے مرحوم بھائی کو خواب میں دیکھ کر پوچھا کیازندہ لوگوں کی دُعا تم لوگوں کو پہنچتی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا، ’’ ہاں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم وہ نورانی لباس کی صورت میں آتی ہے اسے ہم پہن لیتے ہیں ‘‘۔ ( شَرحُ الصُّدُوْرص ۳۰۵) جلوہ یار سے ہو قبر آباد وَحْشتِ قبر سے بچا یارب ! صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نورانی طباق

’’ جب کوئی شخص میت کو ایصال ثواب کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام اسے نورانی طباق میں رکھ کر قبر کے کنارے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں ، ’’ اے قبر والے ! یہ ہدیہ (تحفہ) تیرے گھر والوں نے بھیجا ہے قبول کر۔‘‘ یہ سن کر وہ خوش ہوتا ہے اور اس کے پڑوسی اپنی محرومی پر غمگین ہوتے ہیں ۔ ( اَیضاًص ۳۰۸) قبر میں آہ! گھپ اندھیرا ہے فضل سے کردے چاند نا یارب ! صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مُردوں کی تعداد کے برابر اَجْر

جو قبرستان میں گیارہ بار سورۂ اِخلاص پڑھ کر مُردوں کو اس کا ایصالِ ثواب کرے تو مُردوں کی تعداد کے برابر ایصالِ ثواب کرنے والے کواس کا اَجْر ملیگا۔ ( کَشفُ الْخِفَاء ج ۲ ص ۲۵۲ حدیث ۲۶۲۹ ) صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اہلِ قُبوُر سِفارش کریں گے

شفیعِ مجرمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان شفاعت نشان ہے، جو قبرستان سے گزرا اور اس نے سورۃُ الفاتحہ ، سورۃُ الاخلاص اور سورۃُ التَّکاثُر پڑھی ۔ پھر یہ دعا مانگی، ’’ یااللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں نے جو کچھ قرآن پڑھا اس کا ثواب مومن مرد و عورت دونوں کو پہنچا تو وہ قبر والے قیامت کے روز اس (ایصالِ ثواب کرنے والے) کے سفارشی ہونگے۔ ( شَرحُ الصُّدُوْرص ۳۱۱) ہر بھلے کی بھلائی کا صدقہ اس برے کو بھی کر بھلا یارب! صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سورۂ اخلاص کا ثواب

حضرت سیِّدُنا حمَّاد مکّی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ، میں ایک رات مکہ مکرمہ کے قبرِستان میں سوگیا ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ قبر والے حلقہ در حلقہ کھڑے ہیں میں نے ان سے استِفسار کیا ، کیا قیامت قائم ہوگئی ؟ اُنہوں نے کہا، نہیں بات دراصل یہ ہے کہ ایک مسلمان بھائی نے سورۃُ الاخلاص پڑھ کر ہم کو ایصالِ ثواب کیا تو وہ ثواب ہم ایک سال سے تقسیم کررہے ہیں ۔ ( شَرحُ الصُّدُوْر ص ۳۱۲) سَبَقَتْ رَحْمَتِیْ عَلٰی غَضَبِیْ تونے جب سے سنادیا یارب ! عَزَّ وَجَلَّ آسرا ہم گنہگاروں کا اور مضبوط ہوگیا یارب! عَزَّ وَجَلَّ صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد #**

اُمِ سَعد رضی اللّٰہ تَعَالٰی عنہاکیلئے کُنواں

**# حضرت سَیِّدُنا سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی، یارسولَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! میری ماں انتقال کرگئی ہیں (میں اُن کی طرف سے صَدَقہ کرنا چاہتا ہوں ) کون سا صَدَقہ افضل رہے گا؟سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ’’پانی ‘‘ چُنانچِہ انہوں نے ایک کُنواں کھدوایا اور کہا، ’’یہ اُمِ سَعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کیلئے ہے ۔‘‘ ( سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد ج ۲ ص ۱۸۰ حدیث ۱۶۸۱ دارالفکر بیروت ) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سَیِّدُ نا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کہنا ہے کہ یہ کُنوا ں اُمِّ سعد رضی اللّٰہ تَعَالٰی عنہماکیلئے ہے۔اس کے معنٰی یہ ہیں کہ یہ کنواں سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ماں کے ایصالِ ثواب کیلئے ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا گائے یا بکرے وغیرہ کو بزرگوں کی طرف منسوب کرنا مثلاً یہ کہنا کہ ’’یہ سَیِّدُنا غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بکرا ہے‘‘۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس سے مُراد بھی یہی ہے کہ یہ بکرا غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ایصال ثواب کیلئے ہے۔ اور قربانی کے جانور کو بھی تو لوگ ایک دوسرے ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ مثلاً کوئی اپنی قربانی کی گائے لئے چلا آرہا ہو اور اگر آپ اُس سے پوچھیں ، کہ کس کی گائے ہے ؟تو اُس نے یہی جواب دینا ہے، ’’میری گائے ہے ‘‘ جب یہ کہنے والے پر اعتراض نہیں تو’’غوثِ پاک کا بکرا‘‘کہنے والے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔حقیقت میں ہر شے کا مالک اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے اور قربانی کی گائے ہو یا غوثِ پاک کا بکرا، ہر ذبیحہ کے ذبح کے وقت اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لیا جاتا ہے۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ وسوسوں سے نجات بخشے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

’’دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘کے اٹھارہ حُرُوف کی نسبت سے ایصالِ ثواب کے 18مدنی پھول

مدینہ1 فرض، واجب ، سنت ، نفل، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج ، بیان، درس، مَدَنی قافلے میں سفر، مَدَنی انعامات، نیکی کی دعوت، دینی کتاب کا مطالعہ، مَدَنی کاموں کیلئے انفرادی کوشِش وغیرہ ہر نیک کام کا ایصالِ ثواب کرسکتے ہیں ۔ مدینہ2 میِّت کا تیجا، دسواں ، چالیسواں اور برسی کرنا اچّھا ہے کہ یہ ایصال ثواب کے ہی ذرائِع ہیں ۔ شریعت میں تیجے وغیرہ کے عَدَمِ جواز(یعنی ناجائزہونے) کی دلیل نہ ہونا خود دلیلِ جواز ہے اور میِّت کیلئے زندوں کا دعا کرناقرآنِ کریم سے ثابِت ہے جو کہ ایصالِ ثواب کی اَصْل ہے ۔ چُنانچِہ وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ ( پ ۲۸ حشر : ۱۰) ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ جوان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں ، اے ہمارے رب( عَزَّ وَجَلَّ ) ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔ مدینہ3 تیجے وغیرہ کا کھانا صِرْف اسی صورت میں میِّت کے چھوڑے ہوئے مال سے کرسکتے ہیں جبکہ سارے وُرَثا بالِغ ہوں اور سب کے سب اجازت بھی دیں اگر ایک بھی وارِث نابالِغ ہے توسخت حرام ہے۔ ہاں بالِغ اپنے حصہ سے کرسکتا ہے۔ (مُلَخَّص از بہار شریعت ج۱ حصہ۴ ص۸۲۲) مدینہ4 میِّت کے گھر والے اگر تیجے کا کھانا پکائیں تو(مالدار نہ کھائیں ) صِرْف فُقَراء کوکھلائیں ۔ (اَیضاًص۸۵۳) مدینہ5 ایک دن کے بچے کو بھی ایصالِ ثواب کرسکتے ہیں ، اُس کاتیجا ، وغیرہ بھی کرنے میں حرج نہیں ۔ مدینہ6 جو زندہ ہیں ان کو بھی بلکہ جو مسلمان ابھی پیدا نہیں ہوئے ان کو بھی پیشگی (ایڈوانس میں ) ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے۔ مدینہ7 مسلمان جِنَّات کو بھی ایصالِ ثواب کرسکتے ہیں ۔ مدینہ8 گیارھویں شریف، رَجَبی شریف (یعنی ۲۲ رجب المرجّب کو سَیِّدُنا امام جعفرِ صادِق رضی اللہ تعالی عنہ کے کونڈے کرنا) وغیرہ جائز ہے۔ کونڈے ہی میں کھیر کھِلانا ضَروری نہیں دوسرے برتن میں بھی کھلا سکتے ہیں ۔ اس کو گھر سے باہَر بھی لے جاسکتے ہیں ۔ مدینہ9 بزرگوں کی فاتحہ کے کھانے کو تعظیماً’’ نذر و نیاز ‘‘کہتے ہیں اور یہ نیاز تَبَرُّک ہے اسے امیر و غریب سب کھا سکتے ہیں ۔ مدینہ10 ایصالِ ثواب کے کھانے میں مہمان کی شرکت شرط نہیں گھر کے افراد اگر خود ہی کھالیں جب بھی کوئی حرج نہیں ۔ مدینہ11 روزانہ جتنی باربھی کھاناحسبِ حال اچّھی اچّھی نیّتوں کے ساتھ کھائیں ، اُس میں اگر کسی نہ کسی بُزُرْگ کے ایصالِ ثواب کی نیّت کرلیں توخوب ہے۔ مَثَلاً ناشتے میں نیّت کیجئے : آج کے ناشتے کا ثواب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ کے ذَرِیْعے تمام انبیا ئے کرام عَلَیْہِ السَّلَام کو پہنچے۔دوپَہَر کو نیّت کیجئے : ابھی جو کھانا کھائیں گے(یا کھایا) اُس کا ثواب سرکارِ غوثِ اعظم اور تمام اولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام کو پہنچے، رات کو نیّت کیجئے : ابھی جو کھائیں گے اُس کا ثواب امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اورہر مسلمان مردوعورت کو پہنچے یا ہر بار سبھی کو ایصالِ ثواب کیا جائے اور یہی اَنْسَب (یعنی زیادہ مناسب) ہے۔یاد رہے! ایصالِ ثواب صِرف اُسی صورت میں ہو سکے گا جبکہ وہ کھانا کسی اچّھی نیّت سے کھایا جائے مَثَلاً عبادت پر قوّت حاصِل کرنے کی نیّت سے کھایا تو یہ کھانا کھانا کارِ ثواب ہوا اور اُس کا ایصالِ ثواب ہوسکتا ہے ۔ اگر ایک بھی اچّھی نیّت نہ ہو تو کھانا کھانا مُباح کہ اِس پر نہ ثواب نہ گناہ ، تو جب ثواب ہی نہ ملا تو ایصالِ ثواب کیسا!البتّہ دوسروں کو بہ نیّتِ ثواب کھلایا ہو تو اُس کِھلانے کا ثواب ایصال ہو سکتا ہے۔ مدینہ12اچّھی اچّھی نیتوں کے ساتھ کھائے جانے والے کھانے سے پہلے ایصالِ ثواب کریں یا کھانے کے بعد ، دونوں طرح دُرُست ہے۔ مدینہ13 ہوسکے تو ہر روز( نَفْع پر نہیں بلکہ) اپنی بِکری کا ایک فیصد اور ملازِمت کرنے والے تنخواہ کا ماہانہ کم ازکم تین فیصدسرکارِ غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نیاز کیلئے نکال لیا کریں ۔اِس رقم سے دینی کتابیں تقسیم کریں یا کسی بھی نیک کام میں خرچ کریں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اِس کی برکتیں خود ہی دیکھیں گے۔ مدینہ14 مسجد یا مدرسہ کا قیام صدقۂ جاریہ اور ایصالِ ثواب کا بہترین ذریعہ ہے۔ مدینہ15 داستانِ عجیب، شہزادے کا سر ، دس بیبیوں کی کہانی اور جنابِ سیِّدہ کی کہانی وغیرہ سب من گھڑت قِصّے ہیں ، انہیں ہرگز نہ پڑھا کریں ۔ اسی طرح ایک پمفلٹ بنام ’’وصیت نامہ‘‘ لوگ تقسیم کرتے ہیں جس میں کسی ’’شیخ احمد‘‘ کا خواب دَرْج ہے یہ بھی جعلی ہے اس کے نیچے مخصوص تعداد میں چھپواکر بانٹنے کی فضیلت اور نہ تقسیم کرنے کے نقصانات وغیرہ لکھے ہیں ان کا بھی اعتبارنہ کریں ۔ مدینہ16 جتنوں کو بھی ایصال ثواب کریں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمت سے امید ہے کہ سب کو پورا ملیگا ۔ یہ نہیں کہ ثواب تقسیم ہوکر ٹکرے ٹکرے ملے۔ ( رَدُّالْمُحْتارج ۳ ص ۱۸۰ دار المعرفۃ ، بہارشریعت ج۱حصہ ۴ ص ۸۵۰ملخصاً ) مدینہ17 ایصالِ ثواب کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ یہ امید ہے کہ اس نے جتنوں کو ایصالِ ثواب کیا ان سب کے مجموعہ کے برابر اس کو ثواب ملے۔ مثلاً کوئی نیک کام کیا جس پر اس کو دس نیکیاں ملیں اب اس نے دس مُردوں کو ایصالِ ثواب کیا تو ہر ایک کودس دس نیکیاں پہنچیں گی جبکہ ایصالِ ثواب کرنے والے کو ایک سو دس اور اگر ایک ہزار کو ایصالِ ثواب کیا تو اس کو دس ہزار دس وَ عَلیٰ ھٰذَا الْقِیاس ۔ (بہارشریعت ج۱حصہ۴ص۸۵۰) مدینہ18 ایصالِ ثواب صِرْف مسلمان کو کرسکتے ہیں ۔ کافر یا مُر تَد کو ایصالِ ثواب کرنا یا اس کو مرحوم کہنا کُفر ہے۔

اِیصَال ثواب کا طریقہ

ایصالِ ثواب ( یعنی ثواب پہنچانا) کیلئے دل میں نیّت کرلینا کافی ہے، مَثَلاًآپ نے کسی کو ایک روپیہ خیرات دیا یا ایک بار دُرُود شریف پڑھا یا کسی کو ایک سنَّت بتائی یا نیکی کی دعوت دی یا سنّتوں بھرا بیان کیا۔ الغرض کوئی بھی نیکی کی آپ دل ہی دل میں اس طرح نیّت کرلیں مَثَلاً، ابھی میں نے جو سنّت بتائی اس کا ثواب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پہنچے‘‘۔ ان شاء اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ثواب پہنچ جائے گا۔ مزید جن جن کی نیت کریں گے ان کو بھی پہنچے گا۔ دل میں نیت ہونے کے ساتھ ساتھ زبان سے کہہ لینا سنت صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ہے جیسا کہ ابھی حدیثِ سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں گزرا کہ انہوں نے کنواں کھدواکر فرمایا۔ ’’ یہ امِّ سعد کیلئے ہے‘‘ ۔

ایصالِ ثواب کا مُرَوَّجہ طریقہ

آج کل مسلمانوں میں خُصُوصاً کھانے پر جو فاتحہ کا طریقہ رائج ہے وہ بھی بہت اچھا ہے جن کھانوں کا ایصالِ ثواب کرنا ہے وہ سارے یا سب میں سے تھوڑا تھوڑاکھانا نیز ایک گلاس میں پانی بھر کر سب کچھ سامنے رکھ لیں ۔ اب اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط پڑھ کر ایک بار بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱) لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ(۲) وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ(۳) وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ(۴) وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ(۵) لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠(۶) تین بار بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲) لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴) ایک بار بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ(۱) مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ(۲) وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ(۳) وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ(۴) وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠(۵) ایک بار بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱) مَلِكِ النَّاسِۙ(۲) اِلٰهِ النَّاسِۙ(۳) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ﳔ الْخَنَّاسِﭪ(۴) الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ(۵) مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠(۶) ایک بار بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ(۲) مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ(۳) اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ(۴) اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۵) صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠(۷) ایک بار بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الٓمّٓۚ(۱) ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲) الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳) وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ-وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ(۴) اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵) پڑھنے کے بعد یہ پانچ آیات پڑھیے : (1) وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)( پ ۱ البقرۃ : ۱۶۳) (2) اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) ( پ ۸ الاعراف : ۵۶) (3) وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) ( پ ۱۷ الانبیآء : ۱۰۷) (4) مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰)( پ ۲۲ الاحزاب ۴۰) (5) اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) ( پ ۲۲ الاحزاب : ۵۶) اب دُرُود شریف پڑھئے : اب ہاتھ اٹھاکر فاتحہ پڑھانے والابُلند آواز سے ’’ الفاتِحہ‘‘ کہے۔ سب لوگ آہستہ سے سورۃُ الفاتِحَہ پڑھیں ۔ اب فاتحہ پڑھانے والا اس طرح اعلان کرے، ’’میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! آپ نے جو کچھ پڑھا ہے اُس کا ثواب مجھے دیدیجئے‘‘۔ تمام حاضرین کہہ دیں : ’’ آپکو دیا۔‘‘اب فاتحہ پڑھانے والا ایصالِ ثواب کردے۔ ایصالِ ثواب کے الفاظ لکھنے سے قبل امام اہلسنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ اللہ ِالرحمن فاتحہ سے قبل جو سورتیں وغیرہ پڑھتے تھے وہ تحریر کرتا ہوں ۔ #**

اعلٰی حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فاتحہ کا طریقہ

**#
ایک بار بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ(۲) مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ(۳) اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ(۴) اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۵) صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠(۷) ایک بار اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا لَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(۲۵۵) تین بار بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲) لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)

اِیصال ثواب کیلئے دعا کا طریقہ

یااللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ جو کچھ پڑھا گیا (اگر کھانا وغیرہ ہے تو اس طرح سے بھی کہیں ) اور جو کچھ کھانا وغیرہ پیش کیا گیا ہے بلکہ آج تک جو کچھ ٹوٹا پھوٹا عمل ہو سکا ہے اس کا ثواب ہمارے ناقص عمل کے لائق نہیں بلکہ اپنے کرم کے شایان شان مرحمت فرما۔ اور اسے ہماری جانب سے اپنے پیارے محبوب ، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں نَذْر پہنچا۔ سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تَوَسُّط سے تمام انبیائے کرام علیہم السلام تمام صَحابۂ کرام علیہم الرضوان تمام اولیائے عِظام رحمہم اللّٰہ کی جناب میں نَذْر پہنچا۔ سرکار مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تَوَسُّط سے سَیِّدُ نا آدم صفیُّ اللّٰہ علیہ السلام سے لیکر اب تک جتنے انسان و جِنّات مسلمان ہوئے یا قیامت تک ہوں گے سب کو پہنچااس دَوران جن جن بزرگوں کو خُصُوصاً ایصالِ ثواب کرنا ہے ان کا نام بھی لیتے جائیں ۔ اپنے ماں باپ اور دیگر رشتے داروں اور اپنے پیر و مرشِد کو ایصالِ ثواب کریں ۔( فوت شدگان میں سے جن جن کا نام لیتے ہیں ان کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔) اب حسبِ معمول دعا ختم کردیں ۔ (اگر تھوڑا تھوڑا کھانا اور پانی نکالا تھا تو وہ دوسرے کھانوں اور پانی میں ڈال دیں )۔

خبردار !

جب بھی آپ کے یہاں نیاز یا کسی قسم کی تقریب ہو، جماعت کا وَقْت ہوتے ہی کوئی مانِع شرعی نہ ہوتو انفرادی کوشش کے ذَریعے تمام مہمانوں سمیت نمازِ باجماعت کیلئے مسجد کا رخ کریں ۔ بلکہ ایسے اوقات میں دعوت ہی نہ رکھیں کہ بیچ میں نماز آئے اور سستی کے باعث معاذ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ جماعت فوت ہوجائے ۔ دوپہر کے کھانے کے لیے بعد نماز ظہر اورشام کے کھانے کیلئے بعد نماز عشاء مہمانوں کو بُلانے میں غالباً باجماعت نَمازوں کیلئے آسانی ہے ۔ میزبان ، باورچی ، کھانا تقسیم کرنے والے وغیرہ سبھی کو چاہیے کہ وقت ہوجائے تو سارا کام چھوڑ کر باجماعت نماز کا اہتمام کریں ۔ بزرگوں کی ’’نیاز‘‘کی مصروفیت میں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی ’’نمازِ باجماعت ‘‘میں کوتاہی بہت بڑی غلطی ہے ۔

مَزار پر حاضِری کا طریقہ

بزرگوں کے پاس قدموں کی طرف سے حاضر ہونا چاہئے، پیچھے سے آنے کی صورت میں انہیں مُڑ کر دیکھنے کی زحمت ہوتی ہے۔ لہٰذا مزارِاولیاء پر بھی پائِنتی (قدموں ) کی طرف سے حاضر ہو کر قبلہ کو پیٹھ اور صاحبِ مزار کے چہرے کی طرف رُخ کر کے کم از کم چار ہاتھ (دو گز) دُور کھڑاہواور اس طرح سلام عرض کرے ، السَّلامُ عَلَیکَ یا ولیَّ اللّٰہِ وَرَحْمۃُ اللّٰہِ وَ برَکَاتُہٗ ایک بار سورۃُ الفاتحہ اور11بار سورۃُ الْاِخْلاص (اول آخر ایک بار دُرُود شریف ) پڑھ کر ہاتھ اٹھا کر اوپر دیئے ہوئے طریقے کے مطابق (صاحبِ مزار کا نام لیکر بھی) ایصالِ ثواب کرے اور دعاء مانگے، ’’ اَحْسَنُ الوِِعاء ‘‘ میں ہے ، ولی کے قُرب میں دعاء قبول ہوتی ہے، الہٰی واسطہ کل اولیا ء کا مِرا ہر ایک پورا مُدَّعا ہو صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مآخذ و مراجع

نمبر شمار-----نام کتاب ----- مطبوعہ -----نمبر شمار ----- نام کتاب ----- مطبوعہ 1----- قرآٰن پاک ----- ضیاء القراٰن پبلی کیشنز لاہور -----21----- مَجْمَعُ الزَّوَائِد ----- دارالفکر ، بیروت 2----- ترجمہ کَنْزُالْاِیْمَانِ ----- ضیاء القراٰن پبلی کیشنز لاہور -----22----- کَنْزُ الْعُمَّال ----- دار الکتب العلمیۃ بیروت 3----- تفسیراَلدُّرُّ الْمَنْثوُر ----- دارالفکر بیروت -----23----- اَلتَّرْغِیب وَالتَّرْہِیب ----- دار الفکر بیروت 4----- اَلتَّفْسِیرُ الْکَبِیر ----- دار احیاء التراث العربی بیروت -----24----- اَلسُّنَنُ الْکُبْرٰی ----- دارالکتب العلمیۃ ، بیروت ----- رُوْحُ الْمَعَانِیْ ----- دار احیاء التراث العربی بیروت -----25----- ااَ لْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِیّ ----- دارالکتب العلمیۃ ، بیروت 6----- تفسیر اِبْنِ کَثِیرْ ----- دار الکتب العلمیہ بیروت -----26----- المستدرک عَلٰی الصَّحِیْحَیْن ----- دارالمعرفہ بیروت 7----- تفسیررُوْحُ الْبَیَانِ ----- کوئٹہ -----27----- مُسْنَدُ الدَّارمِیْ ----- باب المدینہ کراچی 8----- خَزَائِنُ الْعِرْفَان ----- ضیاء القراٰن پبلی کیشنز لاہور -----28----- فِرْدَوْسُ الْاَخْبَار ----- دار الفکر بیروت 9----- تفسیرنُوْرُ الْعِرْفَانِ ----- ضیاء القراٰن پبلی کیشنز لاہور -----29----- اَلْبَدْرُ السَّافِرَۃ ----- مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ 10----- صَحِیحُ البُخارِیّ ----- دار الکتب العلمیۃ ، بیروت -----30----- صَحِیْحُ ابْنِ حَبَّانٍ ----- دار الکتب العلمیۃ ، بیروت 11----- صَحِیح مُسلِم ----- دار ابن حزم ، بیروت -----31----- مُسنَد اِمام اَحمد ----- دار الفکر بیروت 12----- سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ----- دار الفکر ، بیروت -----32----- مِشْکَاۃُ الْمَصَابِیح ----- دار الکتب العلمیۃ ، بیروت 13----- سُنَنُ النَّسَائی ----- دارالجیل بیروت -----33----- حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء ----- دار الکتب العلمیۃ ، بیروت 14----- سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد ----- دار احیاء التراث العربی ، بیروت -----34----- اَلْمُسْنَدُ اَبِیْ یَعْلٰی ----- دارالکتب العلمیہ بیروت 15----- سُنَن اِبْنِ مَاجَہْ ----- دار المعرفۃ ، بیروت -----35----- مُصَنَّفُ ابْنُ اَبِی شَیْبَۃَ ----- دار الفکر بیروت 16----- شُعَبُ الْاِیْمَان لِلْبَیْہَقِیّ ----- دارمکۃ المکرمۃ -----36----- صَحِیْحُ ابْنُ خُزَیْمَۃ ----- المکتب الاسلامی بیروت 17----- مُؤَطَّا اِمَامِ مَالِکْ ----- دار المعرفۃ بیروت -----37----- عَمَلُ الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃَ ----- دار الکتاب العربی 18----- اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْرّ ----- دار احیاء التراث العربی ، بیروت -----38----- فَتْحُ الْبَارِی ----- دارالکتب العلمیہ بیروت 19----- اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ----- دارالکتب العلمیۃ ، بیروت -----39----- مِرْاٰٰۃُ الْمَنَاجِیْحِ ----- ضیاء القرآن لاہور 20----- اَلْمُعْجَمُ الصَّغِیر ----- دارالکتب العلمیۃ ، بیروت -----40----- اَلْمُنَبِِّہَاتُ لِلْعَسْقَلَانِی ----- پشاور نمبر شمار -----نام کتاب -----مطبوعہ ----- نمبر شمار -----نام کتاب -----مطبوعہ 41----- دُرِّمُختار ، ----- دارالمعرفۃ ، بیروت -----60----- اَلْحَصَنُ وَ الْحُصَیْنِ ----- المکتبۃالعصریہ بیروت 42----- رَدُّالْمُحتار ----- دارالمعرفۃ ، بیروت -----61----- اَحْسَنُ الْوِعَائِ ----- مکتبۃ المدینہ ، باب المدینہ کراچی 43----- فَتَاوٰی عَالَمْگِیْرِی ----- کوئٹہ -----62----- شَمْسُ الْمَعَارِفْ مترجم ----- کوئٹہ 44----- اَلْجَوْہَرَۃُ النَّیَّرْۃُ ----- باب المدینہ کراچی -----63----- جَنَّتِیْ زَیْوَرْ ----- باب المدینہ کراچی 45----- غُنْیَۃُ المُتَمَلّی ----- سہیل اکیڈمی مرکز الاولیاء لاہور -----64----- الْکَامِلُ فِی ضُعَفَائِ ----- دار الکتب العلمیہ بیروت 46----- فَتَاوٰی رَضَوِیَّہْ ----- رضا فاؤنڈیشن لاہور -----65----- اِحْیَائُ الْعُلُوْمِ الدِّیْن ----- دار صادر بیروت 47----- بَہَارِ شَرِیْعَتْ ----- مکتبۃ المدینہ ، باب المدینہ کراچی -----66----- اَلْقَوْلُ الْبَدِیْعِ ----- مؤسسۃ الریان بیروت 48----- مُخْتَصَرُ الْقُدُوْرِی ----- مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی -----67----- تَارِیْخُ بَغْدَاد ----- دار الکتب العلمیۃ بیروت 49----- اَخْبَارُ الْاَخْیَارْ ----- فاروق اکیڈمی گمبٹ خیر پور -----68----- مُکَاشِفَۃُ الْقُلُوْبِ ----- دار الکتب العلمیۃ بیروت 50----- اَلْمَقَاصِدُ الْحَسَنَہْ ----- دار الکتاب العربی -----69----- رَاحَۃُ الْقُلُوْبِ ----- شبیر برادرز لاہور 51----- مَاثَبَتَ مِنَ السُّنَّۃِ مترجم ----- لاہور -----70----- اَلْوَظِیْفَۃُ الْکَرِیْمَۃُ ----- ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا 52----- رَوْضُ الرِّیَاحِینْ ----- دار الکتب العلمیۃ بیروت -----71----- کِتَابُ الْکَبَائِر ----- پشاور 53----- اَلْخَیْرَاتُ الْحِسَانُ ----- باب المدینہ کراچی -----72----- مَسَائِلُ الْقُرْآن ----- رومی پبلیکیشنزلاہور 54----- کِتَابُ الْعَظْمَۃِ ----- دار الکتب العلمیۃ بیروت -----73----- اِسلَامِیْ زِنْدَگی ----- مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی 55----- کَشْفُ الْغُمَّۃِ ----- دار الکتب العلمیۃ بیروت -----74----- شجرہ قادرِیَّہ رَضَوِیَّہ ----- مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی 56----- جِلَائُ الْاَفْہَامِ ----- دار الکتب العلمیۃ بیروت -----75----- ملفوظات اعلٰٰحضرت ----- فرید بک اسٹال لاہور 57----- افضل الصلوات ----- دار الثمر عرفۃ -----76----- اَعْمَالِ رَضَا ----- مدینۃ الاولیاء ملتان 58----- اَلْمُسْتَطْرَفْ ----- دار الفکر بیروت -----77----- تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْنَ ----- پشاور 59----- مَطَالِعُ الْمُسَرَّاتْ ----- مرکز الاولیاء لاہور -----78----- فَیْضَانِ سُنَّتْ ----- مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن