30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کے چہرے کے تاثرات اور پریشانی دیکھ کر گھر والے اندازہ لگاتے کہ طبیعت صحیح نہیں۔ کبھی فرمائش نہیں کرتے تھے کہ مجھے یہ پکا دو وہ پکا دو جو گھر والے دیتے تھے وہ کھا لیتے تھے یہاں تک کہ گھر والے کہتے ہیں کہ کبھی نمک ڈالنا بھول جائیں تو چپ چاپ کھالیتے تھے۔ جو ملا کھالیا جو نہیں ملا نہیں کھایا ان کے گھر والے ان کا جھوٹھا تبرکاً کھاتے تھے۔ جس برتن میں کھاتے تھے اس برتن میں کھانے کے لیے بچے لڑتے تھے کہ ہم کھائیں گے ہم کھائیں گے یہ گھر والوں کا بیان ہے جس کے گھر والے اُس سے متاثر ہوں وہ آدمی کیسا ہو۔ اپنی ماں کے پیچھے لگے رہتے تھے انہیں قرآن پاک پڑھا دیا۔ اپنی بیٹی کے لیے کہتے تھے کہ گیارہ ماہ کی بیٹی ہے کہ اس کو کہیں نہیں بھیجیں گے میں پڑھاؤں گا۔ ان کے گھروالے ان سے بے حد متاثر تھے۔
ہر ایک اپنے گھر پر غور کرے کہ اپنی کیا پوزیشن ہے اپنے گھر میں سب کو پتا ہوگا۔ گھر والوں پر اپنی بات کا وزن کتنا ہے ' اس میں وزن ہے ہی نہیں گھر میں مار دھاڑ ، جھاڑ یہ نہیں کھاؤں گا ، یہ کھاؤں گا ، یہ کیوں نہیں پکایا میں نے چاول کا بولا تھا ، آپ نے روٹی سالن پکایا آپ نے بھی نہیں تم نے تم نے میں جاتا ہوں ہوٹل پر کھالوں گا۔ اس طرح گھر میں ماحول کبھی بھی نہیں بنے گا۔ گھر میں آپ کو عاجزی انکساری دکھانا ہوگی۔ آپ جناب سے بات کرنا ہوگی۔ ایک دن کے بچے سے بھی آپ کو جی جناب سے بات کرنا ہوگی۔ تو اِنْ شَآءَ اللہ بہتر ماحول بنے گا۔ گھر میں مدنی ماحول بنانے والے مدنی پھول پر عمل کریں۔ مفتی فاروق عمل کرتے ہوں گے جب ہی تو گھر والے اتنے متاثر ہیں۔ اِنْ شَآءَ اللہ گھر میں مدنی ماحول بنے گا۔ ایک تو گھر میں کردار سے ماحول بنے گا دوسرے درس دینے کی عادت بنائیں گھر میں درس دینے سے بھی ماحول بنتا ہے۔
ایک مدنی بہار آداب طعام میں موجود ہے ، چنانچہ آکَولہ(مہاراشٹر ، ہند ) کے ایک اسلامی بھائی نے کچھ اس طرح کا بیان دیا کہ بدمذہبوں کےساتھ تعلُّقات کے باعِث ہمارا گھرانا بد عملی کے ساتھ ساتھ بد عقیدَگی کی طرف بھی گامزَن تھا ، ایک دن ہم سب گھر والے ملکر TVدیکھنے میں مشغول تھے کہ میرا ستَّرہ سالہ چھوٹا بھائی جو کہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اِجتِماع میں آنے جانے لگا تھا وہ TVکی طرف پیٹھ کئے اُلٹا چلتا ہوا کمرہ میں داخِل ہوا اور اپنی کوئی چیز الماری سے نکال کر اِسی انداز پر واپس پلٹا ۔ اِس کی یہ عجیب و غریب حَرَکت دیکھ کر میں غصّے میں چیخا ، کیا تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے جو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع