30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مثال ہی لے لیں کہ وہ کوئی د اڑھی کابیان سن سن کے کچھ بھی اثر قبول نہیں کرتامگر جب اُس کو محبت سے انفرادی طور پر سمجھایا تو اُس نے داڑھی رکھ لی ، عمامہ نہیں پہنتا۔ پرانا ہے بہت پرانا برسوں سے مدنی ماحول میں ہے لیکن کبھی محبت سے اُسے انفرادی طور پر سمجھانے کی ترکیب کی تواُس نے عمامہ باندھ لیا ۔ ایسا ہوا ہے اسی طرح قافلے اور مدنی انعاما ت کا بھی تجربہ آپ لوگ کر سکتے ہیں ، انفرادی کوشش میں بہت برکت ہے اور میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے بھی انفرادی کوشش فرمائی ، شروع میں تو اپنوں میں آپ نے کام کیا جو قریب کے تھے یعنی گھر سے کام شروع ہوا ، قبیلے میں کام شروع ہو ا پھر مکہ مکرمہ اور پھر اس طرح حجاج جو دوسرے شہروں سے آتے تھے میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم منیٰ شریف میں خیموں میں جا جا کراُن پر انفرادی کوشش فرماتے ، نیکی کی دعوت ارشاد فرماتے اس طرح اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کام بڑھ گیا آپ کے سامنے ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور اسی طرح ہر نبی عَلَیْہِ السَّلَام نے بھی انفرادی کوشش کی ، یہ فقط کہنے کی بات نہیں ہے سمجھ میں آنے والی بات ہے پہلے نہ ایکو ساؤنڈ ہوتے تھے اور نہ یہ اجتماعات کا انداز ہوتا تھا ، لیکن بہرحال لوگوں کو جمع کر کر کے بھی بیانات کرنا ثابت ہے ، حضرتِ سَیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کے تو بہت بڑے بڑے اجتماع ہوتے تھے اور اُس میں سے جنازے اُٹھتے تھے ، بہت سارے لوگوں کے کلیجے پھٹ جاتے تھے دم ٹوٹ جاتے تھے۔ ([1]) یقیناً جو اُن کے اثرات تھے وہ روحانی قوتیں تھیں وہ اُن کا ہی مقام تھا ، غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ تو جو ولیوں کے سردار ہیں ان کے اجتماع بھی ستر ستر ہزار تک پہنچتے تھے۔ ([2]) ان کولاؤڈ اسپیکر کی بھی محتاجی نہیں تھی بغیر لاؤڈ اسپیکرکے ہر ایک کو آواز پہنچتی تھی اور غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا بیان ریلے بھی ہوتا تھا ، مختلف شہروں اور مختلف ملکوں میں موجود اولیائے کرام روحانی رابطہ کے ذریعے غوث پاک کا بیان سن لیتے تھے وہ روحانی نظام تھا۔
دارالعلوم اور مدارس میں مدنی کام کاطریقہ
سُوال : دارالعلوم اور مدارس میں مدنی کام کیسے کیا جائے؟ (ہند سے سوال)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع