30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلاصہ نہ کیا جائے بالخصوص قرآنی آیتیں اور احادیث مبارکہ اس میں زیادہ سخت حکم ہے اپنی طرف سے تشریح کا جیسا کہ تفسیر بالرائے یعنی اپنی رائے سے ، اپنے آئیڈیا سے تفسیر قرآن یہ حرام ہے۔ ([1])بلکہ بعض علما کے نزدیک کفر ہے۔ ([2]) اسی طرح حدیث پاک کی تشریح اپنے آئیڈیا سے نہیں کر سکتے ، اسی طرح قرآن اور حدیث پاک سے اپنے آئیڈیا سے استدلال کرنا اپنے آئیڈیا یعنی خیال سے اس کی دلیل نکالنے کی اجازت نہیں ۔ لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ جو کچھ لکھا ہے اس کو پڑھ لیں۔ عربی آیتیں اور عربی متن حدیث شریف وغیرہ کونہ پڑھا جائے ، کیونکہ عوام الناس کو اس کے پڑھنے کی روانی ہوتی نہیں ہے ، وہ غلطیاں کرتے ہیں تو اس لیے صرف ترجمہ پر اکتفا کریں اور ترجمہ پڑھ کر سنائیں۔
سُوال : کیا بغیر دیکھے بیان بھی نہیں کرسکتے؟
جواب : جی ہاں مبلغین کو اور مبلغات کو بغیر دیکھے بیان کرنے کی مرکز کی طرف سے اجازت نہیں ہے۔ اس لیے کہ جو عام مبلغین ہوتے ہیں یعنی غیرِ عالم ان کو ویسے بیان کرنے کی شرعاً اجازت بھی نہیں ہے ، اسی لیے صرف ان کو اجازت وہی ہے کہ علماء نے جو لکھا ہے وہ پڑھ کر سنا دیں۔ اور پڑھ کربھی وہ سنائیں جن کو صحیح پڑھنا بھی آتا ہے اسی لیے مبلغین کو اپنی طرف سے بیان کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ، وہ صرف اور صرف دیکھ کر بیان کریں ، سنیّ عالموں کی کتابوں سے حسب ضرور ت فوٹو کاپیاں کروا کر اس کی کٹنگ ڈائریوں میں چسپاں کرلیں۔ اور پھر اس کو پڑھ کر سنادیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ فیضان سنت میں اور مکتبۃ المدینہ کی طرف سے شائع کردہ رسائل میں اتنے بیانات ہیں کہ اگر کرنے والااور تھوڑا سا سمجھ دار ہو تو اس میں سے بیان تیار کرنا کوئی مشکل نہیں۔
ایک رسالے میں سے کئی کئی بیان ہوسکتے ہیں۔ مثلاً مکتبۃ المدینہ کی 192صفحات کی کتاب ''پردے کے بارے میں سوال وجواب'' میں سمجھتا ہوں کہ اگرکوئی صحیح بیان کرنے والا بیان کرے تواس سے الگ الگ تیارکرکے مختلف عنوانات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع