30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور جب نابینا ہو جائے گا تو نابینا کہیں گے۔ آنکھوں والے کتنے بیچارے اندھے ہو جاتے ہیں۔ اب اندھا کہیں گے اور آنکھوں والے کو اس لئے آنکھوں والا نہ کہیں کہ نہ جانے کب اندھا ہو جائے یہ تو حماقت ہے ۔ قرآن پاک میں فرمایا : ’’ قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ‘‘ ([1])(ترجمہ کنزالایمان : تم فرماؤ اے کافرو)۔ قرآن تو کافروں کو کافر کہنے کا حکم دے رہا ہے اور یہ بے چارے عوام کہتے ہیں کہ کافر کو کافر نہیں بولنا چاہیے۔ کافر کو مسلمان بولیں گے تو کافر ناراض ہو گا کہ ہم کو گالی دیتا ہے ۔ اب کافر نہیں کہو گے تو کیاکہوگے ؟کافر کوکافر بولنا پڑے گا ۔ ہم نے کب کہا کہ تسبیح پکڑ لو اور’’ کافر ، کافر ، کافر‘‘ کاوردکرتے رہو۔ حسبِ ضرورت کافر کو کافر تو بولنا پڑے گا۔ ضروریاتِ دین سے ہے کہ کافر کو کافر اور مسلمان کو مسلمان سمجھے ۔ ضرورتاً بولے کہ فلاں کافر ہے کیونکہ جس نے کافر کے کفر میں شک کیا وہ خود کافر ہو گیا۔ یہ فقہا کا مسلّمہ اصول ہے۔
سُوال : غیر مسلم کو اسلام کی دعوت کیسے دی جائے ؟
جواب : غیر مسلم کو اسلام کی د عوت دینا عام آدمی کا کام نہیں ، عالِم چاہیے ، عالم بھی وہ جسے مذاہب ِعالَم کی معلومات ہو۔ عالم کو معلوم ہوگاکہ وہ کیا کیا اعتراض کرسکتا ہے اس کے جوابات کیا کیا ہیں؟ ورنہ ایک عام مبلغ کرسچن کو پکڑ لیں تو یہ خطرہ ہے کہ وہ اس کو گھما دیں ، کنفیوز (confuse)کردیں۔ اس لئے آپ مسلمانوں میں نیکی کی دعوت کا سلسلہ رکھیں اور علمائےاہل سنت اَلْحَمْدُ لِلّٰہ غیر مسلموں کو دعوت دیتے ہی ہیں ۔ آپ اپنے شعار کو اپنائیں رہیں کیونکہ ہمارے شعائر کو دیکھ کر بعض غیر مسلموں کے دل پسیج جاتے ہیں اور وہ مسلمان ہوجاتے ہیں۔ مبلغ کو سراپامبلغ ہونا چاہیے کہ اس کو دیکھ کر اللہ پاک یاد آئے۔
کافر کو مسلمان کرنے کا آسان طریقہ
سُوال : کسی کافِر کو مسلمان کرنے کا آسان طریقہ ارشاد فرمادیجئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع