30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھدی بھدی آوازوں والی ٹونزبھی آتی ہیں جو میوزیکل نہیں ہوتی وہ استعمال کرے ۔ اِنْ شَآءَ اللہ جب مدنی سوچ بن جائے گی تو صحیح ٹیونز بھی آپ کو مل جائیں گی اور اگر مدنی سوچ نہ ہوئی تو شیطان آپ کو بولے گا ، یار! یہ میوزک تھوڑا ہی ہے۔ ایسوں کو سمجھانا پڑے گا کہ بھائی! تمہیں کیسے پتا چلے گا فلمیں دیکھ دیکھ کر ، گانے سن سن کر مَعَاذَ اللّٰہاتنے عادی ہوگئے کہ اب تم کو شعور ہی نہیں کہ میوزک کس کو بولتے ہیں؟اللہ پاک عقل ِسلیم عطا فرمائے۔
مسجد کی بجلی سے موبائل چارج کرنا
سُوال : اگر کسی نے اپنا موبائل مسجد میں چارج کیا لیکن اس نے کسی سے اجازت نہیں لی تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے اور اجازت کس سے لینی ہوگی؟
جواب : اس کا عرف نہیں بنا ، مسجد کی بجلی کو اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لایا جاسکتا اس لیے موبائل مسجد کی بجلی سے چارج نہیں کرنا چاہیے کہ موبائل اپنے ذاتی استعمال کے لئے ہوتاہے ۔ پھر کل جا کر استری لے آؤ گے اور لگا کر کپڑے پریس کرنا شروع کردو گے ، معلوم نہیں مسجد کی بجلی سے کیا کیا دھندے شروع کردو گے۔ ظاہر ہے اس میں قوم کاچندہ صرف ہوتا ہے ، مسجد کا متولی یا انتظامیہ اس کی بھی اجازت نہیں دے سکتی اورنہ اپنی مرضی سے چندے کا استعمال کرسکتی ہے اوراگر غلط استعمال کرے گی توجواب دِہ ہوگی۔
سُوال : اگر کسی نے موبائل فون چارج کرکے مسجد کی بجلی استعمال کرلی ہے ، اب وہ کیا کرے؟
جواب : توبہ کرے اور تلافی بھی کرے تلافی یعنی اس کا تاوان دینا ہوگا۔ جتنی بجلی خرچ ہوئی ہے اتنی رقم مسجد کی انتظامیہ کو پیش کردے اور ویسے موبائل چارج کرتے ہوئے بجلی بہت کم صرف ہوتی ہے پھرکسی تجربہ کار آدمی سے پوچھ لیں اور کچھ زائد رقم دیدیں کہ آپ کا دل مطمئن ہوجائے مثلاًآپ نے دس بار اگر چارج کیا ہے اور پانچ روپیہ کا خرچ ہوا تو آپ بارہ روپے دے دیں اگرچہ اتنا زیادہ کرنٹ خرچ نہیں ہوتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع