30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیٹھ کرکھایاجائے جس ہیئت پر بیٹھ کر کھاناکھانا سنت ہے ۔ اب جیسے بسکٹ یا پھل کھالیا یا چنے کے دانے پھانک لئے تو اس کا دارومدار عرف پر ہے جہاں کھڑے کھڑے کھانے کو معیوب نہیں سمجھتے تو کھڑے کھڑے کھالیا جائے اورجہاں معیوب ہے جیسے اپنے ماحول میں پھل کھڑے کھڑے کھانامعیو ب ہے ، کوئی کھائے گا تو اچھا نہیں سمجھا جائے گا۔ ناجائز نہیں ہے کہ اگرطعام بھی کوئی کھڑے کھڑے کھالے تواس کے بارے میں ناجائز کا قول نہیں پڑھا۔
سُوال : پیٹ کا قفل مدینہ کسے کہتے ہیں؟
جواب : اپنے پیٹ کو حرام سے بچائے ، زہے نصیب مشتبہات سے بھی بچائے ، اس وقت تک نہ کھائے جب تک بھوک اچھی طرح نہ لگ جائے ، اس سے پہلے ہاتھ کھینچ لے کہ ابھی بھوک باقی ہو۔ یہ ہے ''پیٹ کا قفل مدینہ''۔ کاش! نصیب ہوجائے تو پیڑا پار ہوجائے مگر اس میں نیت ثواب کی کرے ، صحت کو بہت فائدہ ملے گا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ میرا گمان غالب ہے کہ'' بھوک کے فضائل'' کے عنوان پر ، اور کسی زبان میں ہو تو ہو ، اردو میں اتنی ضخیم یہ پہلی کتاب ہے اور یہ اعزاز دعوت اسلامی کو حاصل ہے۔ اس کے آخر میں 52 حکایات ہیں۔ اس کا نام توپیٹ کا قفل مدینہ ہے مگر اس میں وہ معلومات ہیں آپ پڑھیں گے تو خود ہی سمجھ جائیں گے اور دوسروں کو بھی پڑھنے کی ترغیب دلائیں تومدینہ ، مدینہ۔
سُوال : ابھی آپ نے بعض اسلامی بھائیوں کو بطور تحفہ نوٹ عطا فرمائے تھے۔ اسلامی بھائیوں نے ان کو بطور عقیدت چوم لیا ان کا یہ عمل کیساہے ؟
جواب : سکہ جب ایجاد ہوا توسب سے پہلے اس کوشیطان نے چوما تھا اور چوم کر اس کو آنکھوں ، سر سے وغیرہ لگا کر کہا تھا کہ جو تجھ سے محبت کرے وہ میرا غلام ہے۔ ([1])اس لیے دنیا کی دولت کو نہیں چومنا چاہیے لیکن ایک بات یادرکھئے کہ نیت بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں انہوں نے غالباً ان نوٹوں کو دنیا کی دولت سمجھ کر نہیں چوما ہوگاکیونکہ ظاہر ہے ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع