30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے کہ آپ کے جہاز کا کپتان ایک عیسائی (Cristian) تھا ۔ کرسچن ویسے تو اہلِ کتاب ہیں ، ان کا ذبیحہ حلال ہے جب کہ اس نے شرعی طریقہ پر ذبح کیاہو۔ ذبح شرعی کے ذریعے اگر اہلِ کتاب واقعی اہلِ کتاب ہو تو اس کا ذبیحہ حلال ہے۔ سرکار اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اس کپتان سے بات کی ، اس کے پاس دنبہ تھا چنانچہ کپتان سے کہا : تم اس دنبہ کو ذبح کرو ، ہم کچھ گوشت تم سے لے لیں گے۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ اس ظالم نے نوک دار چھری لے کر اس کی گردن کی ایک طرف (Side) میں کھونپ دی اور اس طرح اس کو قتل کرکے مار دیا یعنی باقاعدہ جس طرح ہم اسلامی طریقہ سے ذبح کرتے ہیں ، ذبح نہیں کیا تو اعلی حضرت نے منع فرمایا کہ ہم اس کاگوشت نہیں لیں گے یہ تو ہمارے لیے مثل خنزیر ہوگیا یعنی سؤر کے گوشت کی طرح حرام ہوگیا ، یہ تو مردار ہے ، ذبح کیا ہی نہیں۔([1])اب نصاریٰ بھی جھٹکے سے جا نور کوہلاک کرتے ہیں۔ اب حالات کافی تبدیل ہوچکے ہیں حتّٰی کہ اب تو اسلامی ممالک میں بھی معاملات مشکوک ہوتے جارہے ہیں ، مشینوں کے ذریعے جانوروں کوذبح کیاجارہاہے۔ اب کیا مشین کے ذریعے ذبح کیا ہوا ذبح شرعی ہے ؟ اس کے بارے میں تحقیق پڑھنا چاہیں تو مفتی نظام الدین صاحب دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی کتاب : '' مشینی ذبیحہ'' میں اس پرلاجواب بحث فرمائی ہے ۔ بہت تفصیل کے ساتھ اور تجربات کی روشنی میں انہوں نے اسے تحریرفرمایاہے ۔ جتنے بھی بیرون ممالک کے ا سلامی بھائی یہاں موجود ہیں اس کتاب کا نام لکھ لیں ان کے لئے مفیدکتاب ہے۔ مکتبہ المدینہ سے آپ کومل جائے گی ۔ اس کتاب کے ذریعے آپ کی معلومات میں اضافہ بھی ہوگاکہ کون سا گوشت کھانا ہے اورکس سے لیکر کھانا ہے۔ پوری کتاب نہ بھی پڑھ سکیں تو کم از کم آخری بارہ صفحات تو ضرورپڑھ لیں۔ آخر کتاب میں اس کا نچوڑ ہے مگر تفصیلی معلومات کے لیے پوری ہی پڑھیں تاکہ آپ کوبھی پتا چل جائے کہ ذبح کی کیا صورتیں کی ہیں اور دنیا میں کیا کیا صورتیں رائج ہیں ۔ اس لئے آپ کسی کافر کے ہوٹل سے گوشت نہ کھائیں بلکہ مسلمانوں میں بھی ان سے نہ لیاجائے جن کے پاس کفارممالک سے آتاہے اور شرعی تقاضے پورے نہیں ہوتے۔
بیرون ممالک کہ جن میں اکثریت کفار کی ہے بلکہ مسلمان اکثریت والے ممالک بلکہ خود حرمین شریفین میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع