30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعض جانوروں کے حلال اوربعض کے حر ام ہونے میں حکمت
سُوال : بعض جانور حلال ہیں اور بعض حرام ہیں۔ اس میں کیا حکمت ہے؟
جواب : جو کچھ غِذا یا گوشت کھایاجاتا ہے وہ جُزوِبدن ہوجاتا ہے اور اس کے اَثرات ظاہِر ہوتے ہیں اور چُونکہ حرام جانوروں میں مَذموم صِفات پائی جاتی ہیں اور حرام جانوروں کے کھانے میں اندیشہ ہے کہ انسان بھی ان بُری صفات سے مُتَّصِف ہوجائے لہٰذا انسان کو کھانے سے مَنْع کردیا گیا۔ گوشت تو گوشت ان کے چمڑوں پر بیٹھنے کی بھی تاثیریں ہوتی ہیں۔ لہٰذا چیتے کی کھال پر بیٹھنے سے تکبر پیدا ہوتا ہے اور بکرے کی کھال پر بیٹھنے سے عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ ([1])
سُوال : امپورٹڈ(Imported) گوشت جس پر حلال لکھا ہوا ہو۔ وہ گوشت ہم کھا سکتے ہیں ؟
جواب : آج کل یہ سلسلہ بہت ہی عام ہوگیا ہے ۔ بہرحال اس ضمن میں کافی پیچیدگیاں ہیں لیکن آپ ایک اصول ذہن میں رکھ لیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ آپ کو سمجھنے میں کافی مددملے گی وہ یہ ہے کہ حلال گوشت کے حلال ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جانور کے (شرعی طریقہ کار کے مطابق) ذبح ہونے سے لے کر کھانے تک مسلمان کی نظر سے غائب ہو کر ایک لمحہ کے لیے بھی کافر کے قبضے میں نہ چلا جائے۔ ([2])اگر یہ اصول آپ نے ذہن نشین کرلیا تو اِنْ شَآءَ اللہ آپ کواس سلسلے میں کافی مدد ملے گی ۔ آج کل ہرجگہ یہ وبا پھیلی ہوئی ہے ۔ اب پاکستان حالانکہ بہت غریب ملک ہے لیکن یہاں بھی باہر سے گوشت آنا شروع ہوگیا ہے۔ اسی طرح بیرون ممالک میں کفار کے ہوٹل ہیں پھر کفار بھی دوطرح کے ہیں : (1)کتابی اور (2)غیر کتابی۔ کتابی کافروں کی حالت بھی بہت ابترہے ۔ یہودی اپنے مذہب پر قائم ہوتے ہیں لیکن نصاریٰ کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہوگیا ہے یہ اب دہریت کی سمت جارہے ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اپنا واقعہ نقل کیا ہے۔ جب آپ سفینہ میں تھے غالباً سفر مدینہ کا واقعہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع