30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آدھاکلو کا پیمانہ نہیں ہے تووہ اندازے سے آدھاکلو دہی ڈال دے گا جو کہ پندرہ روپے کاآتاہے توایسی صورت میں آپ اسے یوں نہ کہیں کہ آدھا کلو دہی چاہیے بلکہ اس طرح کہیں کہ مجھے پندرہ روپے کا دہی دو۔ وہ اگر کہتا ہے کہ آدھا کلو دوں گا۔ آپ بولیں کہ آپ کی مرضی ہے کہ آدھا کلو دویا ایک کلو۔ بس پندرہ روپے کا دے دو ۔ اس طرح دونوں کی جان چھوٹ گی اور گناہ سے بچ جائیں گے۔
ہمارے یہاں لاکھوں کروڑوں میں گنتی کے چندافراد کو شرعی اعتبار سے کاروبار ، خرید و فروخت کرناآتاہو گا ، حالانکہ ان کے مسائل سیکھنا فرض ہے۔ بس پیسہ ہاتھ آیا ، جھٹ سے دھندہ شروع کردیا۔ حلال کیاہے ؟ حرام کیا ہے؟ سب اکٹھا کرکے اپنے لئے وبال جان بنالیا کچھ معلوم نہیں اس بارے میں شریعت کاحکم ہے ۔ ان حالات میں بعض اوقات بیع فاسد بلکہ کبھی باطل بھی ہوتی ہے ، خریدنے والابھی گناہ گار اوربیچنے والابھی ۔ یوں بھی کہہ دیاجاتا ہے کہ آپ سے کیا لینا جو مرضی ہو دے دینا ، یہ بھی ناجائز ہے۔ مزدوراور گاڑیوں کے کرائے والے عام طور پراس طرح کہہ کرتے ہیں کہ آپ اپنے انصاف سے یاجومناسب ہودے دینا۔ اب آپ کے نزدیک انصاف سے کرایہ 50 روپے بنتا ہے اور اس کے نزدیک اڑھائی 100 روپے بنتاہے تواس کا انصاف کس قاضی کے پاس جا کر کراؤ گے۔ اس لیے پہلے سے طے کرنا ضروری ہے۔ ہاں جس بارے میں پہلے سے طے (Understood)ہو جیسے ہوٹل میں لسٹ لگی ہوتی ہے کہ ایک پلیٹ قورمہ کی اتنے کی ، روٹی اتنے کی ، چاول اتنے کی ۔ ڈبل پلیٹ اتنے کی تو اب یہاں پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ طے ہے۔ اسی طرح بسوں کے کرائے طے ہوتے ہیں لیکن بہت سے کام ایسے ہیں کہ جن میں طے کرنا لازمی ہوتا ہے۔
اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے! ہمیں ناجائز وحرام کے بارے کچھ پتا نہیں۔ ہر کام میں حرام ہماری نس نس میں اتر چکاہے لیکن ہمیں اس کے بارے معلوم نہیں کہ یہ حرام ہے ۔ یادرکھئے !جہالت ہر جگہ عذر نہیں بن سکتی۔ ان چیزوں کے بارے میں سیکھ کرہی گلوخلاصی ہوسکتی ہے ورنہ ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔ اب آپ نے ون ٹو تھری تو سیکھ لیے ، ٹینس بھی سیکھ لیے ، حساب وریاضی کا رٹا بھی لگارہے ہیں ، چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ بھی بن گئے کہ سود کا حساب کس طرح ہوتا ہے مگر دودھ ، دہی کا حساب نہیں آیا۔ چاول ، سبزی ، گوشت کس طرح خریدا جاتا ہے؟ باسی ہو تو کیا کرنا چاہیے؟ تازہ ہو تو کس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع