30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غیبت ، چغلی ، وعدہ خلافی ، تکبر ، ریا ، حب جاہ وغیرہ اس کے لئے احیاء العلوم کا مطالعہ کریں ۔
سُوال : کیا بدگمانی ، تکبر ، حب جاہ ، جھوٹ اور غیبت وغیرہ کا علم سیکھنا فرضِ کفایہ ہے؟
جواب : فرض عین ہے ، فرض کفایہ تو وہ ہے جس پرچند افراد عمل کرلیا تو سب بری ہوگئے۔ فرض عین ہر عاقل بالغ مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ ([1])لیکن ان علوم کا ہمیں علم نہیں۔ احیاء العلوم کا تیسراحصہ انہی عُلوم پرمشتمل ہے۔ اس کے بارے میں خود امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس حصہ میں تقریباً فرض علوم جمع کردئیے ہیں۔ ان فرض علوم سے کئی اہل علم بھی لاعلم ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات علما سے بے تکلفی ہوتی ہے اورانہی بھی اندازہ ہوتاہے کہ ہماراامتحان لیاجارہاہے ، پوچھاگیاچلو بھئی بتاؤ! جھوٹ کی تعریف کیا ہے؟ٰ غیبت کی تعریف کیا ہے؟ چغلی کی تعریف کیا ہے؟ نہیں بتا پاتے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ہم نے تو یہاں اپنے جامعات المدینہ کے نصاب میں احیاء العلوم شامل کردی ہے۔ اسی طرح بہار شریعت کا پہلا حصہ بھی فرض علوم پرمشتمل ہے بلکہ بہار شریعت کے تو تقریباً حصص میں فرض علوم کا بیان ہے کیونکہ آپ اگر گاہگ ہیں تو خریدنے کے بارے میں مسائل سیکھنا فرض ، اگرتاجر ہیں تو بیچنے کے اصول سیکھنا فرض ہے۔ آپ بیوپاری ہیں تو اس بارے میں سیکھنا فرض ہوگا اس کے بغیربات نہ بنے گی۔ عموماً لوگ اندازے کے ساتھ تول کر دے دیتے ہیں حالانکہ تول کی چیز اگر طے ہے تو تول کر ہی لین دین ہوگا ورنہ دونوں گناہ گار ہوں گے۔ مثال کے طور پر دودھ ہی لے لیجئے ، آپ کو ایک لیٹر دودھ چاہیے لیکن شِیرفروش کے پاس دودھ ماپنے کے پیمانے نہیں ، ان کے تو ہاتھ پاؤں نپے تلے ہوتے ہیں مگر آپ نے کہا : ایک لیٹر ، آپ دیکھ بھی رہے ہیں کہ اندازے سے کوئی پیالہ ڈال رہاہے اور اس کے پاس اصل پیمانے تو نہیں ہیں ، آپ اسی طرح لے کر چلے جاتے ہیں تودونوں گناہ گار ہوئے۔ ایسے مواقع پر طریقہ یہ ہے کہ جہاں ماپ کر نہیں دیتے یاکم چیز لو تو وزن کرکے نہیں دیتے بلکہ اندازے سے اٹھا کر دے دیتے ہیں تو ایسے مواقع پر ناپ تول کی بات ہی نہ کی جائے مثلاً تیس روپے میں ایک کلودہی ملتاہے لیکن آپکو آدھا کلودرکارہے اور اس کے پاس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع