30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نِظامِ قدرت بھی خوب ہے ، مریض جب دوا اِستعمال کرتا ہے دوا اور مرض کے درمیان ایک فِرِشتہ حائل ہوجاتا ہے ، مرض ٹھیک نہیں ہوتا اورجب اللہپاک شفا دینا چاہتا ہے تو فِرِشتہ حائل نہیں ہوتا ، لہٰذا دوا مرض تک پہنچ جاتی ہے اور بحکمِ خداوندی شِفامِل جاتی ہے۔ ([1]) اور نام پھر دوا ، ڈاکٹر یا عامِل کا ہوجاتا ہے۔ بَہَرحال! خَوارِق کا ظہور مقبولیت کی دلیل نہیں مقبولیت کی دلیل شریعت و سنّت کی پابندی ہے۔
خزائنُ العرفان میں ہے : ایک بار مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے مدینہ منورہ کے بازار میں ایک حبشی غلام ملاحظہ فرمایا جویہ کہہ رہا تھا کہ جو مجھے خریدے اُس سے میری یہ شرط ہے کہ مجھے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی اقتِدا میں پانچوں نمازیں اداکرنے سے منع نہ کرے۔ اس غلام کو ایک شخص نے خرید لیا۔ پھر وہ غلام بیمار ہوگیا تو سرکار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم اس کی عِیادت کیلئے تشریف لائے۔ پھر جب اُس کی وفات ہوگئی اور سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم اُس کی تدفین میں تشریف لائے۔ اس پر لوگوں نے کچھ کہا ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوگئی : ’’اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ‘‘ ([2]) (ترجمۂ کنزالایمان : بے شک اللہ کے یہاں تم میں زِیادہ عزّت والا وہ جو تم میں زِیادہ پرہیزگار ہے)۔([3])
سُوال : کافِر سے دوستی رکھنا کیسا ہے؟
جواب : حرام ہے۔ یاد رکھئے! بُری صحبت بُرا رنگ لاتی ہے ، جو لوگ کُفّار کے مُمالِک میں تعلیم یا رُوزگا ر کے سلسلے میں جاتے اور وہاں کُفّار کی صحبتیں اپناتے ہیں ، نیز جو لوگ اسلامی ممالِک میں بھی کفّار کو دوست بناتے اور ان سے دوستیاں رَچاتے ہیں اُن سب کے لئے لمحۂ فکرِیَّہ ہے۔ خَزائنُ العِرفان صفحہ96پر ہے : ’’کُفّار سے دوستی و مَحَبَّت ممنوع و حرام ہے۔ انہیں راز داربنانا ، ان سے مُوالات (یعنی باہَمی اتّحاد) کرنا ناجائز ہے۔ اگر جان یا مال کا خوف ہو تو ایسے وقت صِرْف ظاہِری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع