30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : کیا عورت مُلازَمت کر سکتی ہے ؟
جواب : پانچ شرطوں کے ساتھ اجازت ہے ۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنّت ، مُجَدِّدِ دین وملّت مولاناشاہ احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : یہاں پانچ شرطیں ہیں : (1) کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ سِتْر کا کوئی حصّہ چمکے۔ (2) کپڑے تنگ وچُست نہ ہوں جو بدن کی ہَیأت(یعنی سینے کااُبھاریا پنڈلی وغیرہ کی گولائی وغیرہ) ظاہِرکریں۔ (3)بالوں یا گلے یا پیٹ یاکلائی یا پنڈلی کا کوئی حصّہ ظاہِر نہ ہوتا ہو۔ (4) کبھی نا مَحْرَم کے ساتھ خَفیف (یعنی معمولی سی ) دیر کے لئے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو۔ (5)اُوس کے وہاں رہنے یا باہَر آنے جانے میں کوئی مَظِنَّہِ فِتنہ(فتنہ کا گمان) نہ ہو ۔ یہ پانچوں شرطیں اگر جَمْع ہیں توحَرَج نہیں اور ان میں ایک بھی کم ہے تو(مُلازَمت وغیرہ) حرام۔([1])
جہالت و بے باکی کا دَور ہے مذکورہ پانچ شرائط پر عمل فی زمانہ مشکِل ترین ہے ، آج کل دفاتر وغیرہ میں مرد و عورت مَعَاذَ اللّٰہ اکٹھے کام کرتے ہیں اور یو ں ان دونوں کیلئے بے پردَگی ، بے تکلُّفی اور بد نگاہی سے بچنا قریب بہ نا ممکن ہے ، لہٰذا عورت کو چاہیے کہ گھراور دفتر وغیرہ میں نوکری کے بجائے کوئی گھریلو کسب اختیار کرے ۔
سُوال : کیا ائیر ہوسٹِس کی نوکری جائز ہے؟
جواب : فی زمانہ ائیر ہوسٹِس کی نوکَری حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے کیونکہ اِس میں بے پردَگی شَرط ہوتی ہے۔ نیز اُس کوبِغیر شوہر یا محرم کے غیر مردوں کے ساتھ سفر بھی کرنا پڑتا ہے۔ ([2])
مُسافِرکا ائیر ہوسٹس سے خدمت لینا
سُوال : ہوائی جہاز کا مرد مُسافِر ائیر ہوسٹس کی خدمات لے سکتا ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع