30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چَھپتی ہیں۔ وہ عورت جو مرد کی شَہوت رانی کا شکا ر ہوتی ہے اُسے اگرحَمْل ٹھہر گیا تو وہ کہاں سر چُھپائے گی؟ حَمْل گرانے کی صورت میں وہ اپنی جان بھی کھو سکتی ہے۔ چلئے مانا کہ یورپ کے ترقّی یافتہ ممالِک میں ایسے اَسپتال موجود ہیں جو اِسقاطِ حَمْل( یعنی حمل گرانے) کی'' خدمت انجام'' دیتے ہیں اور ایسی پناہ گاہیں بھی موجود ہیں جہاں غیر شادی شُدہ ماؤں کو'' پناہ '' مل جاتی ہے لیکن کیامُعاشَرہ میں انہیں کوئی قابلِ احتِرام مقام بھی نصیب ہو سکتا ہے ! مانا کہ رُسوا ہو کر ان دونوں(یعنی غیرشادی شدہ جوڑے ) نے اپنے کیے کی دنیا میں ہاتھوں ہاتھ سزا پائی لیکن وہ بچّہ جو اِس طرح پیدا ہواہے اگر زندہ بچ بھی گیا تو اُس کا کیابنے گا ؟ اس کے ہَوَس کا رباپ نے بھی اس سے آنکھیں پھیر لیں ، بد کار ماں بھی اُسے کچرا کُنڈی یا کسی محتاج خانے میں چھوڑ کر چلی گئی !
دوسری جنگِ عظیم میں امریکہ کے سپاہی اپنے دوست ملک برطانیہ کی مدد کے لئے'' تشریف'' لائے تھے ۔ وہ چند سال برطانیہ میں ٹھہرے اور جب گئے تو سرکاری اَعدادوشُمار کے مطابِق 70 ہزار حرامی بچّے چھوڑ کر گئے ! یورپ کے بعض ملکوں میں حرامی بچّوں کی شَرحِ پیدائش 60 فیصد سے بھی متجاوِز ہو گئی ہے اور کنواری ماؤں کی تعداد میں ہو شرُبا اضافہ ہو رہا ہے ۔ طَلَاقوں کی کثرت ہے ، گھروں میں سُکون کی دولت نہیں ملتی ، میاں بیوی میں اعتمادمَفقُود (یعنی غائب)ہے زوجہ اور خاوَندمیں سچّی مَحَبَّت کا فُقدان ہے۔ برداشت اور ایثار کا جذبہ خَتْم ہو چکا ہے ، کوئی بات کسی کی مرضی کے خِلاف ہوگئی جھٹ طَلَاق حاصِل کر لی ۔ غور فرمایئے !میاں بیوی کی ذِہنی ہم آہنگی جو کہ مُعاشَرہ کی خِشْتِ اوّل(یعنی پہلی اینٹ )ہے اورمُحکَم اَساس ( یعنی مضبوط بُنیاد)بھی یہی ہے کہ جس پر مُعاشَرہ کامَحَل تعمیر کیا جاسکتا ہے ، اگر یہ بنیادہی کمزور ہوگی تو صحّت مند مُعاشَرہ کیسے تعمیر ہوگا؟ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اسلام نے جن چیزوں کے بجا لانے کا حکم دیا ہے ان میں ہمارا بھلا ہے اور جن چیزوں سے روکا ہے انہیں کرنے میں ہمارا نقصان ہے ۔ یہ دین اَبد تک کے لئے ہے اِس لئے کوئی ایسا وَقت نہیں آسکتا کہ اس کی حرام کی ہوئی چیزیں حلال ہو جائیں یا ان پرمُرتَّب ہونے والے نُقصانات خَتم ہو جائیں ۔
اٹھا کر پھینک دے اللہ کے بندے نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع