30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوئی۔ '' ([1])دنیاوی طمع (لالچ)سے کسی مُرتد یا کافِر کی نَمازِ جنازہ پڑھنا حرام قطعی اور شدید حرام ہے اور دینی طور پر اسے کارِ ثواب اور مُرتد یا کافِرکو نماز جنازہ اور دعائے مغفرت کامستحق جان کر ایسا کیا تو یہ خود مسلمان نہ رہا ، (بیوی والاہے تو)اس کانکاح بھی ٹوٹ گیا ، اسے تجدیدِ اسلام وتجدیدِ نکاح کرنا چاہیے ۔ ([2])
اللہ پاک سورۃ التوبۃ کی آیت نمبر۸۴ میں ارشاد فرماتا ہے : ’’وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْھُمْ مَاتَ اَبَدًاوَلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ اِنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَھُمْ فَاسِقُوْنَ‘‘ ([3]) (ترجمہ کنزالایمان : اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا ، بےشک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فسق (کفر)ہی میں مر گئے)۔ صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : ''اس آیت سے ثابت ہوا کہ کافر کے جنازے کی نماز کسی حال میں جائز نہیں اور کافر کی قبر پر دفن وزیارت کے لیے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے۔ '' ([4])حضرتِ سیِّدُناجابر بن عبداللہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُما سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے اِرشادِ فرمایا کہ اگر وہ بیمارپڑیں تو پو چھنے نہ جاؤ ، مر جائیں تو جنازے میں حاضر نہ ہو۔ ([5])
دوران درس امام صاحب سے مسئلہ دریافت کرنا
سُوال : مسجد میں درس ہورہا ہوتا ہے ، کچھ لوگ امام صاحب سے مصافحہ کررہے ہوتے ہیں جبکہ بعض اپنا مسئلہ دریافت کررہے ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں امام صاحب کو کیا کرنا چاہیئے؟
جواب : جس دن امام صاحب کا دعوت اسلامی کے متعلق ذہن بن جائے گا وہ خود ہی اپنی سیٹنگ بنالیں گے جیسا کہ میں اپناعمل عرض کرتا ہوں یہاں بارہا ایسا ہوتا ہے جب میں حاضر ہوتا ہوں تو درس بھی دیا جاتا ہے درس دینے والا ترغیب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع