30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے ، اس طرح کے مسائل کے لئے اس رسالہ کا مطالعہ فرمائیں۔ فرض ، وتر اور فجر کی سنتیں چلتی گاڑی میں نہیں ہوتیں باقی نفل اور دیگر سنتیں چلتی گاڑی میں پڑھ سکتے ہیں۔ نماز کے احکام' مکتبۃ المدینہ'' سے ضرور حاصل کریں ، یہ بڑی بڑی کتابوں کا نچوڑ ہے اور دوسری کتابوں سے قدرے آسان بھی ہے ، اِنْ شَآءَ اللہ یہ کتاب نماز سیکھنے میں آپ کی بہت مدد کرے گی ، اپنے یہاں کے آئمہ کرام کو بھی تحفہ میں دیں ، ان کو بہت آسانی ہوگی ، آپ کو بہت دعائیں دیں گے کیونکہ بیرون ممالک میں اسلامی لٹریچر باآسانی دستیاب نہیں ہوتا۔
’’نَماز ‘‘کے چار حُروف کی نِسبت سے چلتی گاڑی میں نَفل پڑھنے کے 4نکات
سُوال : آپ نے ارشاد فرمایا کہ چلتی گاڑی میں نوافل پڑھ سکتے ہیں ، اس کے کچھ احکام بھی بیان فرمادیجئے۔
جواب : نماز کے احکام کاصفحہ نمبر315ملاحظہ فرمائیے :
مدینہ 1 : بیرونِ شہر (بیرون شہر سے مُراد وہ جگہ ہے جہاں سے مسافِرپرقَصرکرنا واجِب ہوتا ہے) سُواری پر (مَثَلاً چلتی کار ، بس ، ویگن ، وغیرہ میں بھی نَفْل پڑھ سکتا ہے اور اس صورت میں اِستِقبالِ قبلہ یعنی قبلہ رُخ ہونا)شَرط نہیں بلکہ سُواری (یا گاڑی) جس رُخ کو جارہی ہو اُدھر ہی مُنہ ہو اور اگر اُدھر مُنہ نہ ہو تو نَماز جائز نہیں اور شُروع کرتے وقت بھی قبلہ کی طرف مُنہ ہونا شرط نہیں بلکہ سُواری(یا گاڑی) جدھر جارہی ہے اُسی طرف مُنہ ہو اور رُکوع و سُجُود اِشارہ سے کرے اور (ضَروری ہے کہ) سجدہ کا اِشارہ بہ نسبت رُکوع کے پَست ہو۔ ( یعنی رُکوع کیلئے جس قَدَر جُھکا ، سجدے کیلئے اُس سے زیادہ جُھکے)۔ ([1])چلتی ٹرین وغیرہ ایسی سواری جس میں جگہ مل سکتی ہے اس میں قبلہ رخ ہو کر قاعدہ کے مطابق نوافل پڑھنے ہوں گے۔
مدینہ 2 : گاؤں میں رہنے والا جب گاؤں سے باہَر ہُوا تو سُواری (گاڑی) پر نَفْل پڑھ سکتا ہے۔ ([2])
مدینہ3 : بیرونِ شہرسُواری پرنَمازشُروع کی تھی اور پڑھتے پڑھتے شہر میں داخِل ہو گیا تو جب تک گھر نہ پہنچاسُواری پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع