30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں نماز پڑھناجائز ہے ، لیکن بچنا بہتر ہے۔
ہوائی جہاز بحری جہاز ، چلتی ٹرین ، اور بس میں نمازپڑھنا؟
سُوال : چلتی ٹرین میں فرض نماز پڑھتے ہوئے استقبالِ قبلہ(قبلہ کی طرف منہ کرنے) کا لحاظ ضروری ہے ؟
جواب : نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری جو کہ فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی لکھی ہوئی ہے۔ اسی کتاب کی جلد۲ صفحہ ۹۶ سے اس کا جواب ملاحظہ ہو : ریل گاڑی (Train)یابس اگر پلیٹ فارم پر کہیں کھڑی ہے تو اس میں نماز صحیح ہے ا ور اگر چل رہی ہے تو اس میں نماز درست نہیں اس لیے کہ اِسْتِقْرَار عَلَی الْاَرْض یعنی زمین پر ٹھہراؤ نہیں پایا گیا۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ نماز قضا ہوجائے گی تو چلتی ٹرین میں نماز پڑھ لے پھر بعد میں جب موقع ملے اور ٹرین رک جائے تو اعادہ کرلے یعنی لوٹالے اس لیے کہ ٹرین سے اترنا باآسانی ممکن ہے اور اترے گا تو نماز کے لائق زمین ملے گی لیکن چلتی ٹرین سے اترناناممکن ہے مگر یہ دشواری سماوی نہیں خود بندوں کی طرف سے ہے اس لیے چلتی ٹرین میں جو نمازیں پڑھیں ان کا اعادہ واجب ہے۔ ([1])
ہاں ہوائی جہاز اگر اڈے پر کھڑا ہے تو نماز صحیح ہے اور اگر فضا میں پرواز کررہا ہے تب بھی نماز درست ہے اس لیے کہ مسافر اگر ہوائی جہاز سے باہر آئے گا تو زمین نہیں بلکہ ہوا ہے جہاں نماز پڑھنا ممکن نہیں جیسا کہ کشتی اور بحری جہاز کا حکم ہے کہ اگر بیچ دریا میں ہے اگر چہ چل رہا ہے تو اس میں نماز درست ہے اس لیے اگر کشتی اور بحری جہاز سے باہرپانی ہے جس پر نماز پڑھنا ناممکن ہے۔ کشتی ہوائی جہاز ریل ، بس ، ٹرین کسی بھی چلتی ہوئی سواری میں نماز پڑھے تو بھی استقبالِ قبلہ شرط ہے ، افتتاح کے وقت بھی اور درمیان میں بھی جیسے قبلہ بدلتا جائے یہ اپنی نماز میں گھومتا جائے جب کہ کوئی عذر اور مجبوری نہ ہو اور اگر کوئی عذر ہو تو جدھر قدرت ہو اُدھر منہ کرکے نماز پڑھے ، اس طرح قیام ، رکوع ، سجدہ بھی فرض ہے بشرطیکہ عاجز نہ ہو یعنی مجبور نہ ہو ورنہ جیسے قدرت ہو پڑھے۔ ([2])نماز کے احکام'' میں ایک رسالہ'' مسافر کی نماز''بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع