30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جاری ہیں۔ مساجد کے ائمہ اورمؤذنین اگر اعلان کرنے والے'' اچھے طریقہ'' کو جاری کردیں اور ہمارے ساتھ تعاون کردیں تو اِنْ شَآءَ اللہ آپ بھی ثواب میں شریک ہوجائیں گے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ فیضان مدینہ میں تو یہ'' اچھاطریقہ'' جاری وساری ہے۔
ٹرین میں دورانِ سفر وقتِ نمازکا حکم
سُوال : ٹرین میں دورانِ سفروقتِ نمازنکل جانے کا خدشہ ہو اور ٹرین میں پانی بھی میسر نہ ہو تو ایسی صورت میں نماز کس طرح ادا کریں؟
جواب : پانی نہیں یا پانی توہے مگراس پر قادر نہیں اور اتر نا بھی ممکن نہیں تو ایسی صورت میں تیمم کرکے نماز پڑھ لے۔ ([1])اَلْحَمْدُ لِلّٰہ تیمم کا طریقہ اوراس کے دیگر مسائل '' نماز کے احکام ''مطبوعہ مکتبۃ المدینہ صفحہ 126سے 135تک ملاحظہ فرمائیں۔ ([2])
اسکرین پر تصویر کے سا منے نما ز پڑھنا کیسا ؟
سُوال : اسکرین پر تصویر آرہی ہو تو اس دوران اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب : اسکرین پر جو کچھ آرہا ہو اس کو تصویر نہیں کہہ سکتے ، بلکہ عکس کہیں گے اور آئینہ کے سامنے نماز پڑھنے پر قیاس کریں گے۔ پس اس صورت میں جب آئینے میں شبیہ نظر آرہی ہو تو اس کے سامنے نمازپڑھنے میں کراہت تنزیہیہ ہے۔ ([3]) یہی حکم اسکرین کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے میں ہے کہ اس سے توجہ بٹتی ہے۔ اسی طرح نقش و نگارسامنے ہوں جیسے خوبصورت جھومر لگا ہواہو جس کی وجہ سے توجہ بٹ رہی ہواوردماغ اس کے اندر ہی گھوم رہا ہوتو ایسی حالت
[1] فتاویٰ هندیة ، کتاب الطهارة ، الباب الرابع فی التیمم ، الفصل الاول ، ۱ / ۲۶ ، ۲۷ ملتقطاً۔
[2] اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : ٹھہری ہُوئی ریل میں سب نمازیں جائز ہیں اور چلتی ہوئی میں سنّتِ صبح (یعنی فجر کی سنتوں)کے سِوا سب سنَّت ونفل جائز ہیں مگر فرض و وتر یا صبح کی سنتیں نہیں ہوسکتیں ۔ اِہتمام کرے کہ ٹھہری (ہوئی ریل) میں پڑھے اور (اگر)دیکھے کہ وقت جاتا ہے (تو)پڑھ لے اور جب (ریل) ٹھہرے پھر پھیرے (یعنی ان نمازوں کو دوہرالے ۔ ) (فتاویٰ رضویہ ، ۵ / ۱۱۳)
[3] وقار الفتاویٰ ، ۲ / ۷۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع