30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو اسلام میں اچھّا طریقہ جاری کرنے والا بڑے اجروثواب کا مستحق ہے تو جس خوش نصیب نے اذان واقامت سے قبل دُرُود وسلام جاری کیا وہ بھی یقیناثوابِ جارِیّہ کا حقدار ہے ، قِیامت تک جومسلمان اِس طریقے پرعمل کرتے رہیں گے اُن کوبھی ثواب ملے گااورجاری کرنے والے کو بھی ان سب کے اجر کی مثل اجرملتا رہے گااور دونوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذِہن میں یہ سُوال پیدا ہو کہ ان دو احادیث مبارکہ : (1) ’’کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلا لۃٌوَّ کُلُّ ضلالۃٍ فِی النّار‘‘ یعنی ہر بدعت (نئی بات)گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنّم میں (لے جانے والی) ہے۔ ([1])(2) ’’شَرَّ الْاُمُوْرِمُحْد َثَاتُھَاوَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلالۃ‘‘ یعنی بدترین کام نئے طریقے ہیں ہربدعت(نئی بات)گمراہی ہے۔ ([2]) میں ہربدعت یعنی نئی بات کو گمراہی اورجہنم کی طرف لے جانے والی فرمایاگیاہے پھر یہ نیاطریقہ کس طرح اجروثواب کا باعث ہوسکتاہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ یہ احادیثِ مبارکہ حق ہیں ، لیکن یہاں بدعت سے مُراد بِدعَتِ سیئہ یعنی بُری بدعت ہے اور یقینا ہر وہ بدعت بُری ہے جو کسی سنّت کے خِلاف یا سنّت کو مٹانے والی ہو اورمتذکرہ بالا دونوں احادیث میں یہی بدعت سیئہ مراد ہے۔ دیگر احادیث مبارکہ میں اس مسئلے کی مزید وضاحت موجود ہے ۔ چنانچہ ہمارے پیارے آقا مدنی مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا : ہروہ گمراہ کرنے والی بدعت جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی نہ ہو تو اس گمراہی والی بدعت کو جاری کرنے والے پر اس بدعت پر عمل کرنے والوں کی مثل گناہ ہے ، اسے گناہ مل جانا لوگوں کے گناہوں میں کمی نہیں کرتا۔ ([3]) ایک اورحدیث میں مزید وضاحت ملاحظہ فرمائیں۔ ام المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَاسے مروی ہے کہ اللہ پاک کے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مَنْ أحْدَثَ فِيْ أمْرِنَا ہذَا مَا لَیْسَ فِیْہِ فَہُوَ رَدٌّ‘‘ یعنی جو ہمارے دین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع