30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُدھرے گا؟ (مَعَاذَ اللّٰہ) یہ ہندوؤں سے سیکھا ہے ، کیونکہ اسلامی عقیدے میں ہر ایک کا ایک ہی بار جنم ہوتا ہے۔([1])
سُوال : تَجدیدِایمان کا طریقہ آسان الفاظ میں بیان فرمادیجئے۔
جواب : جس سے کلمہ کفر یا فعلِ کُفر کا صُدُور ہوا ہے اُس سے توبہ کرکے کلمہ پڑھ لے۔ مثلاً داڑھی کی توہین کرنے والااِس طرح توبہ کرے : ’’ یا اللہ! میں نے جو داڑھی کی توہین کی ہے اس کُفر سے توبہ کرتا ہوں‘‘اب کلمہ پڑھ لے۔
سُوال : جس کو شک ہو کہ مجھ سے کفریات ہوئے ہیں مگر یہ یاد نہیں کیا کیا کُفر بکے تھے ، وہ کس طرح توبہ کرے؟
جواب : صِرْف شُکُوک و شُبہات اور وَساوِس سے کفر نہیں ہوجاتا ، ہاں کسی نے واقعی کلمات ِ کفر بکے مگر اسے یاد نہیں کہ اس نے کیا کیا کفر کئے ہیں تو وہ اس طرح توبہ کرے : ’’مجھ سے جو بھی کفر ہوگئے ہیں میں اُن سے توبہ کرتا ہوں۔ ‘‘ اب کلمہ پڑھ لے۔ سلب ایمان کے مُعاملہ میں ہر وقت خوفزدہ رہناچاہیے۔ میرے آقا ا علیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا ارشاد ہے کہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں : جس کو زندگی میں سلبِ ایمان کا خوف نہیں ہوتا اُس کاایمان آخِری وَقت میں سلب ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ ([2])
سُوال : کفر کے معامَلے میں احتیاطی توبہ کا طریقہ بھی ارشاد فرمادیجئے۔
جواب : اگر کوئی صِرف احتیاطاً کفر سے توبہ کرنا چاہے تو اس طرح کہے : ’’اگر مجھ سے کوئی کفر ہوگیا ہو تو میں اس سے توبہ کرتا ہوں۔ ‘‘اب کلمہ پڑھ لے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع