30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میرے آقا سرکار اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے فتاویٰ رضویہ شریف میں عمامہ کے بارے میں فضائل بہت ہیں اسی کے میں نے دو چار فضائل عرض کیے الحمدﷲ ثم الحمدﷲ اعلیٰ حضرت نے اس روایت کے تحت کہ ہرصاحبِ اکرام والا کام سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم سیدھی طرف سے شروع فرماتے تھے۔ ([1]) تو ہر کام کی صراحت نہیں ہے ۔ کہ کون کون سا کام ، بعض کام کی صراحت ہے ہر کام کی نہیں۔ ہر اکرام والا کام سیدھے ہاتھ سے شروع کرنا ہے اسی سے سرکار اعلیٰ حضرت نے غالباً سنت بیان فرمائی ۔ الٹی طرف سے شروع کرکے پیچ لے سیدھی طرف ۔ یہ یوں سنت ہے ۔
میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اہلسنت عظیم البرکت عظیم المرتبت پروانہ شمع رسالت مجدد دین و ملت مولانا شا ہ احمد خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا فتویٰ یہی ہے کہ داڑھی منڈانا ایک مٹھی سے گھٹانا یہ دونوں حرام ہے۔ ([2])داڑھی منڈا رہا ہے وہ گناہ تو کررہا ہے چاہے یہ نوکری کا عذر ہے ۔ یہ عذر نہیں چلے گا۔ اللہ و رسول کا جہاں حکم آگیا وہاں یہ عذر نہیں مانا جائے گا اب یہ کہ جو اسلامی بھائی ہمت کرتے ہیں کہ داڑھی کی نیت کرتے ہیں ، اس لیے نہیں کہ الیاس کہہ رہا ہے ۔ اللہ کے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمان والا شان میرے آقا سرکار اعلیٰ حضرت نے ''لمعۃ الضحیٰ فی اعفاء اللحیٰ ''میں تحریر کیا ہے کہ داڑھیوں کو معافی دو اور مونچھوں کو پست کرو اور یہودیوں کی سی شکل مت بناؤ ۔ ([3]) تقریباً یہی جملہ ہے۔ مونچھیں پست کرو داڑھیوں کو معافی دو۔ اور یہودیوں کی سی صورت مت بناؤ۔ تو آج جس طبقہ نے ہم کو پریشان کررکھا ہے مسلمانوں کو اس طبقہ کی نقل کرنے کی سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے کتنا پہلے سے منع کردیا ہے۔ مگر افسوس کہ اس کی نقل میں آج مسلمان بدمست ہوئے جارہے ہیں اس چیز کا بائیکاٹ ، ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ ، میں کہتا ہوں کہ اس جیسے چہرے کا بائیکاٹ کریں۔ جنہوں نے داڑھی نہیں رکھی وہ نیت فرمالیں ، آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے فرمان پر جان بھی قربان ۔ اِنْ شَآءَ اللہ میں اب چاہے گردن کٹے نام مصطفے پر کل نہیں آج نہیں ابھی کٹے داڑھی اِنْ شَآءَ اللہ قبر میں ساتھ جائے گی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع