30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرض ہیں۔ جو نکاح کرنا چاہتا ہے اس کو نکاح کے مسائل سیکھنا فرض ہیں ، ساتھ میں طلاق کے مسائل بھی سیکھنے ہوں گے ، اس کے کنایات بھی سیکھنے ہوں گے ، تاکہ کبھی طلاق دے بیٹھے توایسا نہ ہو کہ پتا ہی نہ چلے اور کام چلاتا رہے ۔ ہر علم ہر ایک پر فرض نہیں ، عاقل بالغ ہے نماز کا علم فرض ہوگیا ، رمضان آیا رمضان کے مسائل فرض ہوگئے ، حج فرض ہوگیا حج پر جارہا ہے تو حج کے مسائل فرض ہوگئے ، اپنے اپنے حال کے مطابق فرض ہوتے ہیں ، تجارت کرنا چاہتا ہے تو اب تجارت کے مسائل سیکھنا فرض ہیں ، خریداری کرتا ہے تو خریداری کے مسائل فرض ہیں۔ جن کو مسجدکے انتظامات کی ذمّہ داری ہے ان کو مسجد کے مسائل سیکھنے فرض ہوں گے جن کو مسجد بنانی ہیں ان کو مسجد بنانے کے مسائل سیکھنے فرض ہوں گے۔ جن کو چندہ کرنا ہے ان کو چندے کے مسائل سیکھنا فرض ہوں گے ورنہ تو کیا کا کیا کر ڈالتے ہیں ، زکوۃ خیرات سب ایک ہی مد میں چلا لیتے ہیں اس لئے جو جو چیزیں جس کو کرنی ہیں اس کو سیکھنا پڑے گا ، اولاد ہے تواولاد کی تربیت سیکھنی پڑے گی ، اولاد کی تربیت کرے قرآن پاک میں حکم ہے ''اے ایمان والوں اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ'' جب کچھ معلومات ہوگی تب ہی ان کی اصلاح کریں گے معلومات ہی نہیں ہوگی تو کیسے اصلاح کریں گے۔ اب تو یوں کرتے ہیں کہ اس کو جاپانی گڈا بناتے ہیں ، ماڈرن بناتے ہیں ، پڑھاتے لکھاتے ہیں ، ڈاکٹر بناتے ہیں ، انجینئر بناتے ہیں۔ نمازی نہیں بناتے ، باپ کا جنازہ رکھا ہوا ہے لیکن بیٹا نماز نہیں پڑھا سکتا ، اگر بیٹا باپ کا جنازہ پڑھا ئے تو اس سے بڑھ کر اور کیا سعادت ہے۔ بیٹا اپنے باپ کوجس رقت کے ساتھ غسل دے گا یقینادوسر انہیں دے گا ، نہ بیٹے کو نماز پڑھانا آتی ہے نہ غسل دینا آتا ہے۔ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجائے گا اس کو کیا پتا کہ جنازے کی نماز میں کیا کیا پڑھا جاتا ہے۔ میں آپ سے نہیں پوچھوں گا اپنے آپ سے پوچھیں کہ نماز جنازہ میں کیا کیا پڑھتے ہیں یا اس میں کتنے فرض ہیں۔ یعنی کہ اس معاملے میں ہماری معلومات بہت کم ہے ۔ حالانکہ نماز جنازہ فرض کفایہ ہے ۔ ([1])یہ بھی آنی ہی چاہیے۔ الحمدﷲ نماز کے احکام میں نماز جنازہ کا طریقہ موجود ہے۔ اس پر پورا رسالہ ہے ۔ الحمدﷲ میں یہ نہیں کہتا کہ نماز کے احکام نامی کتاب پڑھنا فرض ہے یا بہار شریعت ہی پڑھنا فرض ہے ان کتابوں میں بھی فرض علوم موجود ہیں چاہے کسی بھی سنی عالم کی کتابوں سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع