30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں تو اس کو بچا لیا جائے اس کے بارے میں بدگمانی نہ کی جائے۔
سرکار اعلیٰ حضرت نے فتاویٰ رضویہ شریف میں ([1])ایک بخاری شریف کے حوالے سے روایت نقل کی ہے یہ مراٰۃالمناجیح شرح مشکوۃ شریف میں بھی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کے سامنے ایک شخص نے چوری کی آپ نے فرمایا اے آدمی تو نے چوری کی ؟اس نے کہا خدا کی قسم میں نے چوری نہیں کی حضرت روح اﷲ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ پھر میری آنکھوں کا قصور ہو گاکہ میری آنکھوں نے غلط دیکھا ، درست نہیں دیکھا۔ اس طرح اس کو بچا لیا۔ سامنے چوری کی اس کے باوجود اس کے عیب کو چھپا لیا۔ ([2]) اور ہمارے یہاں یہ کہ قیاس آرئیاں کرتے ہوئے بدگمانی کے لیے راہیں نکالتے ہیں اوربے چارے کو کھینچ تان کر برا بنادیتے ہیں جیسا کہ ہمارے معاشرے میں عام طور پر یہ ہے کہ گھر میں کسی کی طبیعت خراب ہوئی تو فوراً یہ ذہن جاتا ہے کہ کسی نے جادو کروادیا ہے ایک تویہ ذہن اتنی حد تک بدگمانی نہیں تھی لیکن اب ذہن یہ بنا کہ میری جو خالہ ہے اس سے پہلے منہ ماری ہوئی تھی جب سے میرے ساتھ اس کا سلوک صحیح نہیں ہے یہ خالہ نے کروایا ہوگا تو آپ نے کہا خالہ نے کر وایا ہوگا تو یہ ہوئی بدگمانی ، اب گھر میں کسی نے یہ رٹ لیاکہ خالہ نے کروایا ہے تو یہ ہوگئی تہمت اور بے چاری خالہ کو پتا بھی نہیں اب یہ خالہ گیارہویں شریف کی نیاز دینے آتی ہے تو اٹھا کر پھینک دیتے ہیں کہ یہ جادو والا کھانا دے گئی یہ تو میں نے خالہ کی مثال دی۔ ساس بہو کی تو گھر گھر میں جنگ چھڑی ہوئی ہے عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ساس نے جادو کروادیا یا بہو نے کروادیا۔ ماں بولتی ہے میرے بیٹے کو میری بہو نے تعویذ گنڈے کرواکراپنی طرف کرلیا یہ تو تہمت ہے بدگمانی اس وقت ہوتی جب بیچ کی بات ہو اور اگربالکل یقین کے ساتھ بول دیا یہ تو تہمت لگ گئی ۔ ہمارے معاشرے میں بدگمانیوں کا سلسلہ بہت زیادہ ہے گھر گھر عموماً اس کا اطلاق دیکھا جارہا ہے مبالغہ ہے۔ ہر گھر میں ہو ضروری نہیں اس لیے اِنْ شَآءَ اللہ آپ کیسٹ سنیں گے ، کتاب پڑھیں گے تو دونوں کے ذریعہ آپ کو بہترین معلومات ہوجائے گی۔ اِنْ شَآءَ اللہ اس کے علاج بھی بیان کیے گئے ہیں کتاب میں بھی کیسٹ میں بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع