دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Madani Muzakrah Kay 137 Suwalat Jawabat | مَدَنی مُذاکَروں کے۱۳۷سُوالات جوابات

book_icon
مَدَنی مُذاکَروں کے۱۳۷سُوالات جوابات

ہی نہیں سکتی۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ اس شخص نے جس وقت پیسے لیے ، جواب کا میں اپنے انداز میں خلاصہ عرض کرتا ہوں اس وقت واقعی اس کی نیت حج کی ہوگی ۔  وعدہ کرتے وقت اس کا ذہن تھا کہ پورا کرنا ہے یا بعد میں ارادہ بدل گیا یاکوئی سبب ہوگیا کہ اس نے وعدہ پورا نہیں کیا تو اس پر کوئی جرم نہیں ہے ۔ ( وعدہ کرتے وقت یہ نیت ہو کہ میں نے یہ پورا کرنا ہی نہیں تب گناہ گار ہے) اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ جب اس نے پیسے لیے اس وقت تو اس کی نیت ہوگی اس لیے اس پر یہ کہ وہ یہودی یا نصرانی ہونے کی قسم اپنی جگہ پر وہ صحیح کھارہا تھا اُس وقت وہ سچا تھا ۔ بعد میں جب یہ بمبئی گیا ہوگا یا تو اس کو کوئی مرض لاحق ہو گیا ہوگا کہ یہ سفر کے قابل نہ رہا ہوگا۔ یا اس کی کوئی ایسی بیماری یا کوئی ترکیب ہوگی کہ یہ اکیلا سفر نہیں کرپاتا ہوگا۔ اور اس نے جب آپ لوگوں سے پیسے قبول کیے اس وقت اس کی نیت ہوگی کہ فلاں مجھے مل جائے گا اور میں حج پر چلا جاؤں گا وہ آدمی اسے میسر نہیں آیا ہوگا اس کی کوئی واقعی مجبوری ہوگئی ہوگی جس کی وجہ سے یہ سفر پر نہ جاسکا۔   ([1]) جب اس کو پیسے دیئے گئے تو یہ پیسوں کا مالک بن گیا تھا۔ یہ اصول یاد رکھیں ہبہ مشروط یعنی گفٹ کے ساتھ جو شرط کی جائے وہ شرط باطل ہوتی ہے ۔ یعنی میں آپ کو بہت آسان سی مثال دوں کہ آپ نے مجھے عطر کی شیشی دی اور آپ نے کہا کہ دیکھو آپ لگائیں گے میں نے وہ عطر کی شیشی لے لی۔ آپ نے دی یہ میرا قبضہ ہوگیا یہ شیشی میری ہوگئی۔ آپ کی یہ لگانے کی جو شرط ہے وہ باطل ہے میں لگاؤں یا نہ لگاؤں یہ میر ی مرضی ہے ۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا جب اس کو رقم دی گئی وہ رقم اس کی ہوگئی البتہ یہ بہتر ہے کہ لوٹا دے اس کا مطلب یہ نہیں لوٹائے نہیں تو گناہ گار ہے ۔ اس طرح کا اعلیٰ حضرت نے فتاوٰی دیا اس سے بہت سیکھنے کو ملا کہ مسلمان کے بارے میں گویا ہزار پہلو بھی ایسے نکلتے ہیں کہ وہ بدگمانی سے بچا سکتے


 

 



[1]     فتاویٰ رضویہ ، ۱۳ / ۵٠۸۔ ۵٠۹ ماخوذاً۔ زید نے جو الفاظ کہے قسم نہ تھی اسکے بعد حج کو نہ جانے کے سبب احاطہ اسلام سے خارج نہ ہوا روپیہ کہ چندہ والوں نے دیا وہ ہبہ تھا کہ زید بعد قبضہ اس کا ٹکٹ لے کر گیا اگر واقعی زید کا اس وقت ارادہ حج کو جانے کا تھا اور بمبئی تک گیا اور کوئی عذر پیش آیا کہ نہ جاسکا مثلاً زید بہت ضعیف ہواور محتاج معین ہو اور اسے کوئی ایسا نہ ملا کہ اس سفر میں اس کی اعانت کرے ، بمجبوری پلٹ آیا تو اس پر کچھ الزام نہیں چندہ کا روپیہ بہتر یہ ہے کہ واپس کردے ورنہ شرعاً اس پر واپسی لازم نہیں ، ہاں اگر وہ دھوکا دے کر جھوٹ ارادہ ظاہر کرتا اور اس ذریعہ سے لوگوں سے روپیہ لے کر چلتا ہو ضرور شخص مجرم تھا مگر صورتِ سوال سے اس کا ہرگز یہ ارادہ نہیں عہ۱ ، نہ کسی پر بدگمانی جائز بلاوجہ قطعی اور بلاثبوت شرعی دھوکا دینے اور جھوٹ ارادہ روپیہ ہضم کرلینےعہ۲  کرلیں گے وہ سخت مجرم ہوں گے اس پر توبہ فرض ہے ، واﷲ تعالٰی اعلم۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۱۳ / ۵٠۹)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن