30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقصد حل نہیں ہوگا ۔ توضرور ت کے تحت اَلْحَمْدُ لِلّٰہ میں آپ کے سامنے بیٹھا ہوں ، اللہ مجھے ایسی عاجزی عطا کردے کہ میں بلا ضرورت اوپر نہ بیٹھا کروں اب تو ڈائریکٹ قدم اٹھتے ہیں اور آکر بیٹھ جاتا ہوں ذہن بنا ہوا ہے کہ میرے لیے صوفہ بچھا ہوا ہے مائیک پکڑ کر شروع ہوجاتا ہوں۔ میرے لیے بھی دعا کرنا کہ مجھے اللہ پاک عاجزی نصیب کرے انکساری عنایت فرمادے ۔
سُوال : بدگمانی کی تعریف بیان فرمادیجئے ۔
جواب : بدگمانی کا معنی کسی کے بارے میں ''برا سوچنا''اس کو سوئے ظن بھی بولتے ہیں کسی کے بارے میں برا سوچنا یہ ہے بدگمانی لیکن یہاں برا سوچنے سے مراد یہ ہے کہ کسی کی طرف کوئی ایسی بر ی چیز کی نسبت کرنا جو عیب ہو اور اس کے بارے میں ذہن بنا لینا کہ فلاں میں وہ عیب ہے اور وہ ایسا ہی ہے۔ اس میں وہ برائی موجود ہے ۔ ([1]) اوربدگمانی کا گناہ اس صورت میں ملے گا کہ کسی کے بارے میں برائی کا ذہن بنا کہ یہ شخص مثلاً بدنگاہی کرتا ہے حالانکہ کوئی ثبوت نہیں لیکن بس یہ ذہن بن گیا کہ یہ بدنگاہی کرتا ہے یا اس کی نیت خراب ہے۔ ایک تو یہ کہ ذہن میں یہ خیال آنا ، یہ خیال آنا گناہ نہیں لیکن یہ خیال جمانا ، ذہن بنا رہنا کہ یہ ایسا ہے ہی تو گناہ ہے۔ ([2])
بدگمانی کی ایک صورت یہ ہے کہ بدگمانی ہوئی تو اس کا اظہار کردیا ، یا زبان سے بول دیا۔ اب زبان سے کہہ دیا یا اشارے سے بول دیا یا لکھ کر بتادیا اعضا سے اس کا اظہار کردیا تب بھی گناہ ہوگا۔ مسلمان کے بارے میں آج کل اس کا ہمارے یہاں بہت زیادہ سلسلہ ہے۔ بدگمانی اتنی عام ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتی اس پر رکاوٹ کیسے کھڑی کی جائے ۔ بدگمانی کے متعلق بے شک آپ خود بیان بھی کرتے ہوں گے لیکن پھر بھی ا س کا اطلاق ختم نہیں ہوتا یہ مرض جاتا نہیں ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو!یہ ذہن میں رکھیں کہ بدگمانی کے بارے میں جاننا فرض ہے ۔ یعنی جو بھی مہلکات ہیں ، گناہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع