30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے ولیمہ کی دعوت قبول کرنا کھانا نہ کھانا اختیار ہے۔ ([1])میں عمل کرتا تھا کوشش کرکے جہاں بھی ولیمہ کی دعو ت ہوتی پہنچتا تھا کم گیا ہوں مگر گیا ہوں دعوت اسلامی کے دور میں دعوتیں مجھے ملنی شروع ہوگئی تھیں پھر صحیح بات ہے کہ میں تھک گیا اب میں جا نہیں سکتا اب نہیں جاتا میری مجبوریاں ہیں۔ اگر ہر ایک تھوڑا سا اپنے دل پر غور کرے تو شاید خود ہی لگے گا کہ میں اپنی واہ واہ چاہ رہا ہوں آدمی خود ہی کونے کھانچے میں پڑا رہے۔ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی روایت ہے مسجد نبوی شریف کے کونے میں تشریف فرما تھے اور رو رہے تھے کسی نے پوچھا کیا بات ہے آپ نے جو کچھ ارشاد فرمایا۔ ([2])وہ اب پورے الفاظ تو یاد نہیں مجھے سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی حدیث جو سنائی اس میں اس طرح کا مفہوم ہے مضمون اس طرح کا ملتا جلتاہے '' اللہ پاک چھپے ہوئے پراگندہ بکھرے بال والے ، اور سادہ لباس والے اور ایسے کہ جن کو دروازوں سے دور کیا جاتا ہے جو گم ہوجائیں تو تلاش کرنے والا نہیں ہوتامرجائیں تو تعزیت کرنے والا نہیں ہوتا ایسے گمنام بندوں کو اللہ پاک پسند فرماتا ہے ۔ ([3]) آپ عاجزی فرماتے ہیں کہ میں ان میں سے نہیں ہوں ، کتنے رسک کی بات ہے نمایاں ہونا یہ باتیں وہ کررہا ہے جو اس وقت سب سے نمایاں ہے ۔ آپ بولنے والے کی طرف مت دیکھو جو بول رہا ہے آپ اس پر نظر رکھو۔ نمایاں ہونے کے اسباب بھی ہیں اور ضروریات بھی ہیں جیسا میں نے کہا کہ : مولا مشکل کشا کا قول ہے کہ جس کو لوگ نمایاں جگہ پر بٹھائیں اور وہ نہ بیٹھے تو وہ گدھا ہے۔ ([4])
نمایاں اورعزت کی جگہ بیٹھنے کی اجازت کی بھی صورتیں ہیں ناجائز نہیں۔ مثلاً میں آپ کے درمیان بیٹھ جاؤں تو نظام درہم برہم ہوجائے جو بولنا چاہتا ہے وہ سب کے سامنے ظاہر نہیں ہوگا نمایاں نہیں ہوگا اس وقت تک وہ
[1] فتاویٰ رضویہ ، ۲۱ / ۶۵۵ ۔
[2] ایک دن حضرت سیِّدُناعمر بن خطاب رضیاللّٰہ عنہ مسجد نبوی میں تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللّٰہ عنہ رسولِ اَکرم صَلَّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے روضۂ انور کے پاس بیٹھےاَشک بہا رہے ہیں ، سبب دریافت فرمایا تو حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللّٰہ عنہ نے بتایا کہ مجھے اس بات نے رُلایا ہے جو میں نے اللہکے رسول صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سنی ہے کہ تھوڑی سی ریا کاری بھی شرک ہے اور جس نے اللہ کے کسی ولی سے دشمنی کی اس نے اللہ سے اعلانِ جنگ کیا۔ (ابن ماجه ، کتاب الفتن ، باب من ترجی له السلامة من الفتن ، ۴ / ۳۵۱ ، حدیث : ۳۹۸۹)
[3] حلیة الاولیاء ، اویس بن عامر القرنی ، رقم : ۱۶۲ ، ۲ / ۹۷ ، حدیث : ۱۵۶۷ ملتقطاً ۔
[4] المقاصد الحسنة ، حرف اللام الف ، ص ۵۷۴ ، حدیث : ۷۱۳۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع