30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک وقت تو میں نے اپنا بتایا تھا کہ میں بالکل ساداتھا ، کوئی بھاؤ بھی نہیں پوچھتا تھا۔ لوگ مارتے تھے نہ کھیلنا آتا تھا۔ اور اب تصویر کا دوسرا رخ آپ کے سامنے ہے اللہ پاک آخر ت کی عزت سے مجھے محروم نہ فرمائے اب جب میری عزت بن گئی تو پہلے تو کوئی دعوت بھی نہیں دیتا تھا میری شخصیت تو دیکھ رہے ہیں۔ مجھ سے زیادہ لحیم شحیم اور خوبصورت وضع قطع کے اسلامی بھائی موجود ہیں۔ اب پہچان ہوگئی ہے۔ سب مجھے دیکھ رہے ہوتے ہیں تو پتا چل جاتاہے ۔ پہلے میرے ساتھ کوئی فربہ اسلامی بھائی ہوتے تھے تو مجھے چھوڑ کر اس کی دست بوسیاں ہوتی تھیں ۔ میں مسکر اتا تھا۔ موٹا تازہ ہوتا ہے خوامخواہ معقول نظرآتا ہے چاہے اس میں کچھ سمجھ ہو یا نہ ہو۔ جب تک نہ بولے اس کی واہ واہ ہوتی ہے جب بولتا ہے تو بعض اوقات پھنس جاتا ہے ہر فربہ ایسا نہیں ہوتا۔ کسی فربہ کی طرف ایسا دیکھنا بھی نہیں چاہیے مثال دے رہا ہوں کہ اس کی دل آزاری نہ ہو۔ اس طرح اس وقت میرا کوئی بھاؤ نہیں پوچھتا تھا ۔ ایسے ہی دعوت اسلامی سے پہلے میں کسی نکاح کی دعوت میں گیا اس وقت میری داڑھی تھی ۔ میں سادہ لباس تھا میری دعوت اسلامی نہیں تھی ، میں کوئی مشہور شخصیت نہیں تھا اس وقت شادی کے ہال میں دعوت پر کھانے پر گیا۔ اب جو امیر لوگ تھے وہ رعب کے ساتھ دھڑا دھڑ اندر جارہے تھے ، میرے جیسا سادہ آدمی جب گیا تو گیٹ کیپر نے روک دیا اے رک جاؤ آپ نہیں جاؤ گے ۔ مجھے کاٹو تو خون نہیں میں آیا تو دعوت میں تھا۔ مجھے تو اس وقت بھی مسئلہ پتا تھا کہ بغیر دعوت کے جاکر کھانا حرام ہے کسی کی دعوت میں۔ ([1])یہ تو اللہ نے میری لاج رکھ لی۔ جس نے دعوت دی تھی وہ مجھے نظر آگیا اس نے آکر مجھے اس سے چھڑا لیا اور اندر لے آیا ایک وقت وہ تھا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اب جو وقت ہے وہ نظر آرہا ہے یہ دھوپ چھاؤں ہوتی ہے۔ اللہ کرے کہ میں پھر آزمائش میں نہ آجاؤں۔ کیونکہ اب اس کی سہار نہیں ہوگی۔ کسی کو عزت ملنے کے بعد چھنتی ہے تو اس کے لیے سہنا بہت دشوار ہوتا ہے ہم اللہ پاک سے عافیت طلب کرتے ہیں جس طرح دنیا میں عزت دی ہے اسی طرح آخرت میں بھی عزت سے محروم نہ فرمائے۔ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے صدقے آخرت میں بھی عزت سے محروم نہ فرمائے۔
دعوتیں پہلے لوگ اتنی دیتے تھے میں تھک گیا ولیمہ میں جاتا تھا دوسرے شہروں میں چلا جاتا تھا۔ سنت مؤکدہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع