30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جاتی ہیں گناہوں کے دلدل میں ایسا گاڑ دیتے ہیں کہ بندہ اٹھ نہیں سکتا۔ حضرت سیدنا ابو حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے ایک بار نماز پڑھائی پھر اعلان کیا کہ میں کبھی نماز نہیں پڑھاؤں گا کیونکہ میرے دل میں خیال آیا کہ میں ان سے بہتر ہوں جب ہی تو امام بنا ہوں۔ ([1]) خود شہزادہ حضور مفتی اعظم ہند ان کے بارے میں میں نے علماء سے سنا ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھاتے تھے وہ کسی بھی عالم کو بول دیتے تھے کہ آپ نماز پڑھاؤ کسی کو بھی فرماتے کہ آپ نماز پڑھاؤ۔ میں نے سیدی قطبِ مدینہ میرے پیرو مرشد ضیاء الدین مدنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو بار ہا دیکھا ہے بارہا صحبت پائی ہے۔ سن ۸٠ میں کہ روزانہ محفل ہوتی ، اجتماع ذکر و نعت ، محفل میلاد ہوتی تھی ' اور کبھی یاد نہیں پڑتا کہ میرے مرشد نے کبھی دعا کروائی ہو ، تم دعا کروا دو ، آپ دعا کروادیں۔ کسی کو بھی حکم فرمادیتے کہ دعا کردو۔ میں اس وقت تو خاص نمایاں نہیں تھا دعوت اسلامی نہیں بنی تھی لیکن دو تین بار مجھے بھی شرف ملا کہ دو تین بار میں نے بھی دعا کروائی اس میں میری خصوصیت نہیں تھی بس مرشد کا طریقہ تھا اور اب یہ حالت ہے کہ سب کو نام چاہیے نیک کام بھی کرے تو نام چاہیے نام کی تختیاں لگی رہنی چاہیے مَعَاذَ اللّٰہ ایک تعداد ہے جس میں نام کی بہت خواہش ہوتی ہے نام کی تختی لگانا جرم نہیں ہے ، اس کے لیے اچھی اچھی نیتیں ہیں مثلاً یہ نیت ہو کہ میں نے نام کی تختی اس لئے لگوائی کہ میں تو دنیا سے چلا جاؤں گا لیکن لوگ دعا کرتے رہیں گے۔ اگر سچا نہیں ہے اور دل میں ریا ہے تو گناہ پر گناہ کررہا ہے ۔ ایک تو ریا کاری کے لیے اپنے نا م کی تختی لگوائی۔ پھر جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے۔ اب تو مزید گناہ کا اضافہ کردیا ہے کہ جھوٹ بھی ، ریا کاریاں بھی ، پتا نہیں کیا کیا اس میں شامل ہوگئی ہیں ۔ ایک ایک گناہ جو ہے کئی کئی گناہ کو جنم دیتا جاتا ہے ، ایک گناہ سے کئی گناہ بن جاتے ہیں ایک برائی میں نہ جانے کتنی برائیاں ہوتی ہیں ، غصہ ہے کسی پر آگیا ۔ غصہ آجانا برا نہیں ہے جیسا عوام بولتے ہیں غصہ حرام ہے۔ یہ غلط مقولہ ہے اس لیے کہ غصہ اپنے اختیار میں نہیں ، اس کا غلط استعمال حرام ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں یہ نہیں ہے کہ غصہ آگیا تو جہنم میں چلا جائے گا ۔ بلکہ حدیث میں ہے کہ جہنم میں ایک دروازہ ہے اس سے وہی داخل ہوگا جس کا غصہ کسی گناہ کے بعد ہی ختم ہوتا ہے۔ ([2])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع