30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میرے آقا کی مدح سرائی اہل سنت کے حصے میں آئی
بگڑی آقا نے سب کی بنائی آس ہم بھی لگائےہوئے ہیں
سُوال : استخارہ سے کیا مراد ہے؟ کیا آن لائن استخارہ کرسکتے ہیں؟
جواب : استخارہ یہ گویا اللہ پاک کی طرف سے اپنے کام کے تعلق سے کوئی اشارہ طلب کرنا ہے کہ کس کام میں میرے لیے بہتری رہے گی ۔ استخارہ حدیث مبارکہ میں جو وارد ہوئے صحیح ترین استخارے وہی ہیں ، مستند ترین اب یہ کہ بزرگوں سے بھی کئی استخارے منسوب ہیں غلط وہ بھی نہیں اسی طرح یہ آن لائن استخارہ ( فوری طور پر) جو جواب دیا جاتا ہے اس میں بھی کوئی شرعاً گرفت نہیں ہے۔ علما کے مشورہ سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ دعوتِ اسلامی کی مجلس ''مجلس ِمکتوبات وتعویذات'' والے جو استخارہ کرتے ہیں یہ استخارہ بھی درست ہے۔ استخارہ کوئی سا بھی ہو ، اس میں یہ ذہن میں رکھیں کہ استخارے کے ذریعے کنفرم علم غیب حاصل نہیں ہوتا ، یہ قیاسی ہوتا ہے اس لئے کنفرم نہیں بولیں گے ، اس پر یقین نہیں کریں گے کہ ایسا ہو کر ہی رہے گا۔ بس یہ کہ آدمی کو سمجھنے کو ملتا ہے کہ ہم یہ کام کرلیں ، پریشان ہوتا ہے تو اس کو یہ لائن ملتی ہے۔ اس پرایسا یقین نہ کریں ، یہ ذہن نہ بنائیں کہ اب یہ غلط ہو ہی نہیں سکتا ، یہ غلط بھی ہوسکتا ہے بلکہ غلط ہو بھی جاتے ہیں بہتر تو یہ ہی ہے کہ حدیثوں میں جواستخارے وارد ہوئے ان پر عمل کرے ، خاص کر جو آج کل عامل ہوتے ہیں وہ استخارے میں طرح طرح کی خبریں دیتے ہیں اورایسا انداز ہ ہوتا ہے کہ بس لوگ آنکھیں بند کرکے اس پریقین بھی کرلیتے ہیں اور خاص کرجادو ٹونے کے معاملے میں ، جیسے بول دیتے ہیں کہ فلاں نے تم پر جادو کروایا ہے تو اس سے بہت فساد ہوتا ہے۔ اور جس کے بارے میں بولتے ہیں کہ یہ فلاں نے جادو کروایا ہے اس کو اس کا پتا بھی نہیں ہوتا اوراستخارے کے ذریعے آپس میں لڑائی ٹھن جاتی ہے ، اگر بالفرض اشارہ ملتا بھی ہے کہ فلاں نے جادو کروایا ہے تب بھی اس کو بتانا نہیں چاہیے ، کیونکہ اس سے لڑائی ہوگی کیونکہ یہ یقینی علم نہیں ہے اس کے ذریعے کسی پر کوئی قانونی گرفت نہیں کی جا سکتی نہ اس پر کوئی کیس کیا جاسکتا ہے ، نہ اس پر سزا دی جاسکتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع