30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خیر خواہ نہیں ہوسکتے ، ہر جگہ اس طرح کے عناصر ہوتے ہیں اور گروپ بندی وہی کرتے ہیں جو دعوت اسلامی کا کام بھی نہیں کرتے ۔ ان کا کام تنقید کرنا ہوتا ہے ، بات بات میں ٹانگ کھینچنے کی عادت ہوتی ہے۔ آپ کو اندازہ ہوگا کہ کام ایک ٹکے کا نہیں کرتے ہوں گے درس بھی نہیں دیتے ہوں گے ، اجتماع میں آئے نہ آئے۔ یہ بھی ایک کوالٹی ہے یہ ہر جگہ ہے۔ ان کی مثال ایسی دوں گاکہ ایک کچھوے اور عقاب کی دوستی ہوئی ، کچھوے نے عقاب سے کہاکہ تو ہوا میں پرواز کرتا ہے مجھے بھی کبھی پرواز کرا۔ میں بھی فضا کی سیر کروں۔ ' اس نے سمجھایاکہ تو پرواز نہیں کرسکے گاکیونکہ تو بولتا بہت ہے ، خوامخواہ بولنے کی تیری عادت ہے ، تو بول پڑے گا مارا جائے گا پھر اس عقاب نے ایک ڈنڈی لی اوراس کو بولاایک سرااپنے منہ میں ڈال لے اور مضبوطی سے اسے پکڑ لے مگر تو تنقید مت کرنا ، بولنا مت ، بولے گا تو چیتھڑے اڑ جائیں گے ، عقاب نے ڈنڈی کا دوسرا سرا پکڑا اور فضا میں اڑنا شروع کیا کچوا بھی اڑ رہا ہے مزہ لے رہا ہے تھوڑا جوا وپر گیا تو بچوں نے دیکھ لیا ، بچے تالیاں بجانے لگے واہ بھئی واہ کچوا اڑ رہا ہے ۔ اس نے سنا تو بھول گیا کہ میں نے وعدہ کیا ہے کہ میں بولوں گا نہیں اورتان میں آگیا ، ان کے ساتھ سر ملانے کے لیے واہ واہ کرکے بولنے کے لیے منہ کھولا زمین پر آیا اس کے پرخچے اڑ گئے ۔ یہ کوالٹی ہوتی ہے کہ'' میں نہ مانوں'' اس طرح کے لوگ جو تنقید کرنے کے عادی ہوتے ہیں پھر ایسے ہی برباد ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دعوت اسلامی والے اپنے آپ کو کہلائیں ، بلکہ میری طرف نسبت بھی کریں گے کہ ہم عطاری ہیں پھر بھی تنقید کرتے ہیں ، ایسے بھی عطاری ہوتے ہوں گے جو عطار کے دل کو بار بار ٹھیس پہنچاتے ہوں گے۔ یہ کوالٹی ہوتی ہے میں نے دیکھا ہے کہ سدھرتے نہیں ہیں یعنی کوئلے کا رنگ کالا اس کو جتنا بھی دھوئیں گے کالا ہی رہے گا۔ عادت سے مجبور ہوتے ہیں اللہ پاک ایسوں کو ہدایت عطا فرمائے۔ انسان کی فطرت بدلتی نہیں ہے اللہ پاک ایسی بدفطری سے ہم مسلمانوں کو محفوظ فرمائے۔ ہماری حفاظت کرے اور ہمیں مرکزی شوری کا اطاعت گزار بنا دے ، یہی ذہن بن جائے کہ ہمارے بڑے رات دن کام کرتے ہیں ہم سے زیادہ سمجھتے ہیں ، انہیں زیادہ تجربہ ہے اپنی کہے جانا بار بار تنقید کرتے رہنا یہ صحیح نہیں۔ میں تنقید کرنے کا سخت مخالف ہوں ، اس کی حوصلہ شکنی کرتا ہوں اور ان لوگوں سے قطعی بیزار ہوں۔ مجھے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع