30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : روزانہ دعوتِ اسلامی کو کتنا وقت دیا جائے؟
جواب : ڈبل بارہ گھنٹے میں سے پچیس گھنٹے ، یعنی یہ ایک مبالغہ ہے کہ جتنا دیں اتنا کم ہیں۔
یہ جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
اللہ کی راہ میں جتنا ہم وقت دیں وہ کم کم اور کم ہے ۔ اس میں زیادہ سے زیادہ وقت دیجئے۔ البتہ مدنی انعام دو گھنٹے والا ہے ۔ تو دو گھنٹے کا مطلب یہ نہیں کہ دو گھنٹے سے زیادہ دینے کی ممانعت ہے زیادہ سے زیادہ وقت دیں کم از کم دو گھنٹے تو ہر صورت میں روزانہ وقت دیا کریں۔
اختلاف کی صورت میں کیا کیاجائے؟
سُوال : مشاورت میں اختلاف ہوجائے اور ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تو کیا کیا جائے؟
جواب : ایک بار بدگمانی کی کتاب پڑھ لی جائے یا بدگمانی کی کیسٹ سن لیا جائے تو بہت سارے مسائل اِنْ شَآءَ اللہ حل مل جائے گا۔ عموماً مجلس مشاورت سے ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے بدگمانیاں ہوتی ہیں تہمتوں کا دروازہ کھلتا ہے ، بعض اوقات مشاورت کے اراکین بھی ایسی بھول کرجاتے ہیں جس کی وجہ سے مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔ حسن ظن کا جام اگر مل جائے تو میں پی لوں۔ ہر مسلمان کے بارے میں حسن ظن رکھنے والابن جاؤں۔ اسی کتاب میں میں نے حدیث پڑھی ہے کہ مسلمان پر حسنِ ظن رکھنا یہ عمدہ عبادت ہے۔ ([1]) عبادت کے ساتھ لفظ عمدہ بھی ہے اب بدگمانی ہوہی ہے تو دفع کرو اس کا فائدہ نہیں ہے ، ثواب کا کوئی پہلو بھی نہیں ، اس لیے ہم حسنِ ظن رکھ کر ثواب کیوں نہ کمالیں۔ دوسرے کے بارے میں بدگمانی پیدا ہو تو اس کو حسنِ ظن کی طرف لے جانا یہ بھی علاج بھی ہے۔ کہ نہیں ایسا نہیں ہے ، اپنے اوپر گمان کرے کہ میں کون سا اچھا ہوں اپنے گناہوں کویاد کرکے سوچے ۔ اس طرح اِنْ شَآءَ اللہ بدگمانی کا علاج ملتاچلا جائے گا اور آپ کی ذہنی ہم آہنگیاں بھی ہوتی چلی جائیں گی پھر بھی اگر ذہنی ہم آہنگی نہیں ہے تو دوسرے پر اس کا اظہار اس وقت تک نہ کرے جب تک آپ کو شریعت اس کی اجازت نہ دے۔ ورنہ پھر گناہوں کا سلسلہ ہوجائے گا ۔ ذرا ہم کسی کے بارے میں کوئی اظہار رائے کرتے ہیں تو اگلا منہ پھٹ ہوتا ہے تو چاہے ہم لاکھ محتاط جملہ کہیں اگلا جھٹ تہمت جڑ دیتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع