30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نمازی کھانے کی حرص کے باعث جماعت ترک کردیتے ہیں۔ مدنی التجا ہے کہ جب بھی دعوت کریں تواس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی نماز بیچ میں نہ آئے ، اگر آجائے تو پھر لاکھ مصروفیت ہو ، فوراً میزبان اور مہمان سب کے سب مسجد کا رخ کریں جب تک شرعی مجبوری نہ ہو۔ اس وقت تک مسجد کی جماعت اولیٰ لینا واجب ہے۔ ([1]) اگر جماعت گھر میں کر بھی لی تو ترک ِ واجب کا گناہ سر پر آئے گا۔ بلکہ بعض فقہا کرام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْھِمْ کے نزدیک اقامت سے پہلے مسجد میں نہ آنے والا گناہ گا رہے۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو!یہ آپ نے پہلے کبھی سنا تھا یا کبھی مسجد میں آکر اقامت سنی تھی۔ اعلی حضرت نے فتاویٰ رضویہ میں نقل کیا ہے مسجد میں اقامت سے پہلے آجائے ۔ مگر ہم تو بڑے ٹھاٹ سے جماعت کا وقت ہو تو اٹھتے ہیں اگر نماز پڑھتے بھی ہیں آکر استنجا کرتے ہیں ، وضو کرتے ہیں اور پھر جماعت کی ایک دو رکعت ملی تو ملی۔ جو مسجد میں رہتے ہیں ان کو مسجد کی جماعت پوری نہیں ملتی ، کتنی بڑی بدنصیبی ہے ، جماعت پوری لینی چاہیے ۔ مزید اس میں لکھا ہے کہ افطار پارٹیوں ' دعوتوں ' نیازوں' اور نعت خوانیوں وغیرہ کی وجہ سے فرض نمازوں کی مسجد کی جماعتیں اولیٰ یعنی پہلی جماعت ترک کرنے کی ہر گز اجازت نہیں' یہاں تک کہ جو لوگ گھر یا حال یا بنگلہ کے کمپاؤنٹ وغیرہ میں تراویح کی جماعت قائم کرتے ہیں اور قریب مسجد موجود ہے تو ان پر بھی واجب ہے کہ پہلے فرض رکعتیں جماعتیں اولیٰ کے ساتھ مسجد میں ادا کریں۔ جو لوگ بلا عذر شرعی باوجود قدرت فرض نماز مسجد میں جماعت اولیٰ سے ادا نہیں کرتے ان کو ڈر جانا چاہیے کہ سرکار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کا فرما ن عبر ت نشان ہے کہ جس کو یہ پسند ہو کہ کل اللہ پاک سے مسلمان ہو کر ملے تو وہ ان پانچوں نمازوں کی جماعت پر وہاں پابندی کرے جہاں اذان دی جاتی ہے چونکہ اللہ پاک نے تمہارے نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے لیے سننِ ھُدٰی مشروع کی اور یہ نمازیں بھی سننِ ھُدٰی ہیں اور اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرو جیسا کہ پیچھے رہنے والا گھر میں پڑھ لیتا ہے تو تم اپنے نبی کی سنت چھوڑ دو گے اور اگر اپنے نبی کی سنت چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع