30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہوں نے مجھے دبایا میرے دل میں جو نفرت تھی وہ محبت میں تبدیل ہوگئی اور میں نے ارادہ کرلیا کہ میں مرید بنوں گا تو اسی کا بنوں گا۔ یہ دعوت اسلامی کا شروع کا دور تھا میراسورج چڑھا ہوا نہیں تھا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ وہ عطاری بھی بنا عطاری کی اصطلاح بھی اس وقت عام نہیں ہوئی تھی ، ماشاء اﷲ اس نے داڑھی بھی سجائی ، اب بھی کبھی کبھی ملتا ہے تو اتنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ میں نے یہ نہیں سوچا کہ اگرمیرے خلاف ہوگیااور اس کے ساتھ دو چار ادھر ادھرہوگئے تو کیا ہوا اپنے پاس تو ہزاروں ہیں ، دعوت اسلامی کی عمارت کے لیے ایک ایک قیمتی ہے ، ایک تنکا بھی اس سے جدا نہیں ہونا چاہیے ہم تو پاؤں پکڑ کر ہاتھ جوڑ کر کام چلانا چاہتے ہیں۔ جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اس کو بلندی عطا فرماتا ہے۔ ([1]) اس لئے آپس میں جو بھی ناراضگیاں ہو تو مہربانی کرکے نکال دیں۔ چھوٹے باپ کے بن کر آگے بڑھ جاؤ۔ پاؤں پکڑ کر معافی مانگ لو ٹھکرادے پھر بھی بس آپ لپٹتے رہو۔
بہت سے واقعات یاد کرے تو آسکتے ہیں کوشش کیجئے کہ چھوٹے باپ کے بن کر رہیے ۔ بڑے باپ کے نہ بنیں ، انا کا مسئلہ نہ بنالیا کریں کہ اس نے مجھے چھیڑا تو میں چھوڑوں گا نہیں بلکہ معاف کرنا اختیار کیجئے ، اِنْ شَآءَ اللہمدینہ مدینہ ہوگا۔ قرآن پاک میں اللہ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کو یہی حکم دیا گیا کہ ''معاف کرنا اختیار کرو''۔ ([2]) ہم بندوں کو معاف کریں گے تو اللہ بھی ہمیں معاف کرے گا۔ جو انتقام کی طاقت رکھتا ہو اور اس کے باوجود معاف کردے تو اس کے لیے بہت درجات ہیں جیسے کہ کوئی غصہ کو نافذ کرسکتا ہے لیکن اللہ کے لیے وہ نہیں کرتا ، بدلہ نہیں لیتا تو قیامت کے دن اس کو اختیار دیا جائے گا کہ جس حور کو چاہے وہ لے لے۔ ([3])ظاہر ہے حور کو لے گا تو جنت ہی پائے گاکیونکہ بغیر جنت کے حور ملے گی نہیں۔ ، اللہ پاک عفو و در گزر کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم معاف کرنے میں سختی کریں گے تو ا یسا نہ ہو کہ اللہ پاک بھی ہم کو معاف نہ فرمائے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع