30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : اگر کسی تنظیمی اسلامی بھائی سے ناراضگی ہوجائے تو اسے کس طرح منایا جائے؟
جواب : معافی مانگنے میں پہل کی جائے اگر اس سلسلے میں ضد پر اترتے ہیں کہ اس نے یوں بولا تھا یوں بولا تھا میرے کو یوں جھاڑا تھا سب کے سامنے میری انسلٹ کی تھی تو آپ منزل پر نہیں پہنچ سکتے۔ چھوٹے باپ کے بن جائیں گے تو منزل پر پہنچ جائیں گے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے : (ترجمہ کنز الایمان : اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی تجھ میں اور اس میں ایسی محبت ہوجائے گی جیسے کہ گہرے دوست)۔ ([1])
افسوس! اس کا فقدان ہے دیکھا گیا ہے کہ بعض اسلامی بھائی دل میں لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ اس نے میرے ساتھ ناروا سلوک کیا تھا میرے ساتھ ناانصافی کی تھی اور مجھے یوں بول دیا تھا اور بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر کوئی شکر رنجی شروع ہوجاتی ہے تو ا س کے نکات لکھتے ہیں۔ فلاں ٹائم پر فلاں جگہ پر اس نے یوں کہا تھا یوں کہا تھا ۔ وہ سارا لکھ کرمحفوظ رکھتے ہیں اور پھر موقع کی مناسبت سے دوسروں کو بتاتے رہتے ہیں اور پھرایک گروپ بنالیتے ہیں ، یہ کسی بھی قوم کے لیے بہت نقصان دہ ہے اور خصوصاً دعوت ِ اسلامی کے لیے یہ زہر قاتل ہے۔ گروپ بندی پر دعوت اسلامی میں پابندی ہے بالکل بھی گروپ نہیں بننا چاہیے ، سب کے سب ایک ہوں ، جیسا کہ آپ مختلف ممالک سے تشریف لائے ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ یو کے والے یوکے میں بیٹھیں گے ۔ سی لنکا والے سی لنکا میں بیٹھیں گے ۔ ہند والے ہندمیں ، تو فلاں شہر والے فلاں شہر میں ، فلاں علاقے والے فلاں علاقے میں ، لیکن مجھے یہ گوارا نہیں ہے میں یہ پسند کرتا ہوں کہ سب ایک دوسرے میں حل ہوجائیں ، معجون بن جائیں۔ آپ نے دیکھا کہ میں جب داخل ہوا تو آپ سب میری بولی والے تھے مگر سب نے نوٹ کیا ہوگا ، کہ میں کن کے ساتھ جا کر بیٹھا حالانکہ وہ میرے رشتہ دار نہیں ہیں ، میں اردو بولی والوں کے ساتھ نہیں بیٹھا ، ہم وطنوں کے ساتھ نہیں بیٹھابلکہ سیدھا جا کر عرب والوں کے ساتھ بیٹھ گیا ، عین ممکن ہے کہ اجنبیت محسوس ہوتی ہوگی ، احساس محرومی ہوتا ہوگا ایک دو اسلامی بھائی ہیں جو ان سے ان کی زبان میں بات کرتے ہوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع