30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زبان بولنا بھی جانتا تھا۔ (اَلْحَمْدُ لِلّٰہ وہ پادری اور اس کے احباب مسلمان ہو کرسب کے سب عطاری بھی بن گئے)۔
سُوال : کافِر سے دوستی کرنا کیساہے؟
جواب : سورۂ آلِ عمران میں ہے : ’’ لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْکَافِرِینَ أَوْلِیَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِینَ وَمَنْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللَّہِ فِی شَیْئ‘‘ ([1]) (ترجمہ کنزالایمان : مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہا)۔ خَزائنُ الْعِرفان میں ہے : کُفّار سے دوستی ومحبت ممنوع وحرام ہے ، انہیں رازدار بناناان سے مُوالات (یعنی باہمی اتحاد) کرناناجائز ہے۔ اگر جان یامال کاخوف ہو تو ایسے وقت صِرْف ظاہِری برتاؤجائز ہے۔
امام اہل سنّت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمدرضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں ، ہر مسلمان پر فرضِ اعظم ہے کہ اللہ کے تمام دوستوں (اولیا) سے مَحَبَّت رکھے اور اس کے سب دشمنوں (یعنی کافروں ، بدمذہبوں ، بے دینوں اور مُرتدین)سے عَداوت رکھے ، یہ ہماراایمان ہے۔ ([2]) مزید فرماتے ہیں : بحمداللہ تعالیٰ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اللہ کے سب دشمنوں سے دِل میں سخت نفرت ہی پائی۔ ایک بار اپنے دیہات کو گیا تھا ، کوئی دیہی مقدمہ پیش آیا ، جس میں چوپال کے تمام ملازِموں کو بدایون جانا پڑا ، میں تنہا رہا اُس زمانے میں مَعَاذَ اللّٰہ مجھے دردِ قُولنج کے دَورے ہواکرتے تھے ۔ اس دِن ظہر کے وَقْت سے شروع ہوا اسی حالت میں وضو کیا اب نمازکو کھڑا نہیں ہواجاتا۔ ربّ سے دعا مانگی حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع