30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2) پہلی صَف کا آغاز ایک قَدَم ہَٹ کر کیا جائے تا کہ
آگے ضرورتاً تِلاوَت کے لئے ڈیسک (Desk) وغیرہ کوئی چیز رکھنے کی جگہ باقی رہے ۔
(3) صفیں اتنی بڑی ہوں کہ سنّت کے مُطابِق سجدہ کی اَدائیگی ہو سکے اور ہر دو۲
صَفوں کے درمیان
لائنیں تقریباً آدھا اِنْچ چوڑی ہوں اس سے بڑی مُـخْتَلِف ڈیزائن دار (Designed)پٹیاں نہ بنائی جائیں ۔
(4)قالین (Carpet) کی ترکیب دَرْج ذیل مَدَنی پھولوں کے مُطابِق ہی بنائیں :
٭قالین کی لمبائی 20 فٹ اور چوڑائی 4فٹ ہونی چاہئے ۔
٭قالین بِالْکُل سادہ ہو، اس میں کسی قسم کی ڈیزائننگ (Designing)نہ ہو ۔ Iقالین بَہُت زِیادَہ سَخْت ہو نہ اس قَدْر نرم ہو کہ پیشانی ہی زمین پر نہ لگے ۔ ٭قالین صرف میرون رنگ کا ہو اور کسی رنگ کا نہ ہو ۔
٭پاؤں کی جانِب والی طرف پر گولڈن (Golden)جبکہ باقی تینوں اَطراف(Sides) میں میرون (Maroon) اوور لاک (Overlock)کی ترکیب ہو ۔
(5)سُتُون (Pillars)کو اس طرح بنایا جائے کہ صَفوں کے درمیان نہ ہوں مَثَلًا سُتُون سے پہلے اور بعد والی صَف کم از کم ایک، ایک بَالِشْت آگے ، پیچھے رکھیں تاکہ سُتُون کے پاس کھڑا ہونے والا جب رُکُوع و سجود میں جائے تو اسے آسانی رہے اور صَف ٹیڑھی ہو نہ مُنْقَطِع ہو ۔
(6) مَسْجِد کی اندرونی دیواروں پر وائٹ ٹائلز (White Tiles) کا اِسْتِعمال کیا جائے اور مُناسِب جگہوں پر درج ذیل مَدَنی پھولوں کی بھی حسبِ ضَرورت ترکیب بنائی جائے :
٭ ترجمۂ کنز الایمان : اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں یہی لوگ وارث ہیں کہ فردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ (پ۱۸، المؤمنون : ۹ تا ۱۱)
٭ ترجمۂ کنز الایمان : اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو ۔ (پ۹، الاعراف : ۲۰۴)
٭ ترجمۂ کنز الایمان : اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سُلُوک کرو ۔ (پ۱۵، بنی اسرائیل : ۲۳)
٭ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنی بات ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کر دے ۔ ([1])
٭ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مِسْوَاک منہ کی پاکیزگی اور اللہ پاک کی خُوشْنودی کا سَبَب ہے ۔( [2])
٭ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مِسواک کر کے نَماز پڑھنا بغیرمِسواک کی 70نمازوں سے اَفضل ہے ۔ ([3])
٭ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ چُغْل خور جَنَّت میں داخِل نہیں ہو گا ۔ ([4])
٭جو مَسْجِد میں دنیا کی بات کرے اللہ پاک اس کے 40 سال کے عَمَل اَکَارَت (یعنی برباد) فرما دے ۔ ([5])
٭الصَّمْتُ حِكَمٌ وَّقَلِيلٌ فَاعِلُه ۔ خاموشی حِکْمَت ہے اور اسے اِخْتِیار کرنے والے کم ہیں ۔ ([6])
٭ (اُمُورِ آخِرَت میں)گھڑی بھر غور و فِکْر کرنا ساٹھ سال کی عِبَادَت سے بہتر ہے ۔ ([7])
٭ جس شخص نے اللہ پاک کی رَضا جوئی کے لئے مَسْجِد بنائی اگرچہ وہ مَسْجِد پرندے کے گھونسلے کے برابر ہی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے جَنَّت میں مَـحَل بنا دیتا ہے ۔ ([8])
٭ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مَسَاجِد میں دُنیا کی باتیں ہوں گی، تم ان کے ساتھ مَت بیٹھو کہ اللہ پاک کو ان سے کچھ کام نہیں ۔ )[9](
[1] مسلم، المقدمة، باب النھی عن الحدیث بكل ماسمع ، ص ۱۲، حدیث : ۵
[2] ابن ماجه، کتاب الطھارة، باب السواك، ص۶۰، حدیث : ۲۸۹
[3] مسند احمد، مسند عائشة رضی الله عنها، ۱۰ / ۶۴۶، حدیث : ۲۷۰۹۴
[4] بخاری، کتاب الادب، باب ما یکرہ من النمیمة، ص۱۵۰۸، حدیث : ۶۰۵۶
[5] غمز عیون البصائر، الفن الثالث، القول فی احکام المسجد، ۴ / ۶۰
[6] شعب الایمان، ۳۴-باب فی حفظ اللسان، فصل فی فضل السکوت عما لایعنیه، ۴ / ۲۶۴، حدیث : ۵۰۲۶
[7] کتاب العظمة، باب الامر فی آیات الله، ماذكر من الفضل فی المتفكر فی ذلك، ص۳۳، حدیث : ۴۴
[8] صحیح ابن حبان، کتاب الصلاة، باب المساجد، ذكرالخبر الدال...الخ، ص۵۱۷، حدیث : ۱۶۱۰
[9] شعب الایمان، ۲۱-باب فی الصلوات ، فصل المشی الی المساجد، ۳ / ۸۶، حدیث : ۲۹۶۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع