30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(3) اگر مَعَاشِی پریشانی نہ ہو تو بلا اُجْرَت اِمامَت اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کیلئے دونوں جہاں میں باعِثِ سَعادَت ہے ۔
(4) بلا سَخْت مجبوری تنخواہ بڑھانے کا مُطَالَبہ مُناسِب نہیں، نیز زِیادَہ مُشاہرے کے لالچ میں دُوسْری مَسْجِد میں چلا جانا ایک اِمام کو کسی طرح زیب نہیں دیتا ۔
(5) مہربانی کر کے پیشگی تنخواہ نہ لیں بلکہ پہلی تاریخ سے قَبْل بھی تنخواہ قبول نہ کریں کہ زِنْدَگی کا کیا بھروسا ۔
(6)سوال کرنے ، قَرْض مانگنے سے بچیں ورنہ اس کا نُقْصَان خود ہی دیکھ لیں گے ۔
(7) آج کل اِمام اپنے آپ کوخطیب اور مُؤَذِّن خود کو نائب اِمام کہنا کہلوانا پسند کرنے لگے ہیں!اِمامُ الانبیا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام کو ”اِمام“اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُؤَذِّن سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دیوانے کو ”مُؤَذِّن“ کہلوانے میں شَرْم مَحْسُوس نہیں کرنی چاہیے ۔
(8)لباسِ تقویٰ اِخْتِیار کریں ۔ جھوٹ، غیبت، وَعْدہ خلافی وغیرہ گناہوں سے پرہیز کرتے رہیں ۔ اس سے آخِرَت کے خسارے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی یہ نُقْصَان ہوگا کہ لوگ آپ سے بَدظن ہوں گے ۔
(9) زِیادَہ بو لنے ، قہقہہ لگانے اور مذاق کرنے سے عزّت اور رُعب میں کمی آتی ہے ۔ مقتدیوں سے بے تَـکَلُّف بھی نہ بنیں ۔
(10) حُبِّ جاہ سے بچیں، شُہْرَت و عزّت بنانے کی خواہش آپ کیلئے باعِثِ ہَلاکَت ہوسکتی ہے ۔
(11) اِمام کا ملنسار ہو نا بے حد ضَروری ہے ۔ لِہٰذا نمازوں کے بعد لوگوں سے مُلَاقَات کریں پھر تھوڑی دیر کے لئے وہیں تشریف رکھیں مگر دنیا کی باتیں ہر گز نہ کریں صِرف دینی گفتگو وہ بھی آہستگی کے ساتھ ہو کہ نمازیوں وغیرہ کیلئے تشویش کا باعِث نہ بنے ۔
(12) جو اِمام ملنسار نہیں ہوتا، لوگوں سے دُور دُور رہتا ہے صِرف اپنے جیسے یعنی داڑھی عمامے والوں ہی سے میل جَول رکھتا ہے تو عام لوگ بھی اس سے دُور بھاگتے ہیں اور اگر اِمَامَت وغیرہ کے مُعَامَلے میں آڑا وقت آتا ہے تو تَعَاوُن حاصِل نہیں ہوتا اورپھر ………
(13) مُؤَذِّن صاحِب اور خُدّامِ مَسْجِد سے اللہ پاک کی رضا کے لئے اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ بنا کر رکھیں ۔ ان پر حُکْم چلانے کے بجائے سَعَادَت سمجھتے ہوئے مَسْجِد کی صفائی اپنے ہاتھوں سے کرتے رہا کریں، دریاں خود بچھائیں، غیر ضَروری بتّی پنکھے وغیرہ خود ہی بند کر دیا کریں ۔
(14)وُضُو خانہ وغیرہ کی صفائی میں خُدّام کا ہاتھ بٹا دیا کریں ۔ اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّ مَحبّت بھری فضا قائم ہوگی اوران کو مَدَنی قافلوں میں سَفَر کیلئے آمادہ کرنا آپ کیلئے آسان ہوگا ۔
(15) اِنتظامیہ مَسْجِد کے ساتھ ہرگز اُلجھاؤ پیدا نہ کریں، ان کے ساتھ حُسنِ سُلُوک سے پیش آئیں اور کوشش کر کے انہیں دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مَدَنی قافلوں میں سَفَر کروائیں ۔
(16)کسی بھی سُنّی اِمام اور اِنتظامیہ سے ہر گز نہ بگاڑیں ۔ ان پر تنقیدیں کر کے انہیں اپنا مُخالِف نہ بنائیں ۔ اگر بِالْـفَرْض آپ سے کہیں کوتاہی بھی ہو جائے تو فورا ً مُعافی مانگ لیں ۔ ہاں جس کی شَرْعِی غلطی ہو حُسْنِ تدبیر کے ساتھ براہ ِ راست اس کی اِصلاح کریں ۔
(17) اَطراف کی مَساجِد کے اَئمّہ اہلسنّت اور اِنتظامیہ سے مَراسِم اُسْتُوار کریں اور انہیں دَعْوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں سَفَر کا شَرَف دِلوائیں ۔
(18) جُمُعہ و عیدَین کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ انہیں قائم کرنے والا حاکِمِ اِسلام یا اس کا ماذُون(یعنی اِجازَت یافتہ )ہو ۔ فی زمانہ عُلَمائے اَھْلِسُنّت حاکِمِ اِسلام کے قائم مقام ہیں ۔ لِہٰذا اپنے شہر کے سب سے بڑے سُنّی عالِم (جس کی طرف لوگ شَرْعِی مَسَائِل میں رُجُوع کرتے ہوں)سے اِجازَت لے لیجئے ۔ اب اِجازَت یافتہ اسی مَسْجِد وغیرہ میں جُمُعَہ اور عِیْدَیْن قائم کرنے کیلئے دوسرے کو اِجازَت دے سکتا ہے ۔ اگر پورے شہر میں کوئی ایسا عالِم نہ ہو تو عام لوگ جس کو چاہیں اپنے لئے جُمُعَہ اور عِیْدَیْن کا اِمام بنا سکتے ہیں ۔ (خصوصاً نئی تعمیر کردہ مَسَاجِد میں اس مسئلہ کا خَیال رکھا جائے ۔ )
(19)جُمُعَہ و عِیْدَیْن میں فیضانِ خُطْباتِ رَضَویہ ہی پڑھیں کہ یہ اللہپاک کے ولی اور عاشِقِ رسول اور مجدّدِ اَعْظَم اِمام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے مُرَتَّب شُدہ کا اِخْتِصارہیں ۔
(20)جُمُعَہ کو عموماً نَمازیوں کی اَکْثَرِیَّت خُطْبَہ کے وقْت پہنچتی ہے ۔ ایسے میں لوگوں کی نفسیات کا خَیال رکھنا ضَروری ہے مَثَلًا مُقَرَّرہ وَقْت پر جَمَاعَت قائم ہونا، بیان میں دلچسپی کا سامان مُہَیَّا کرنا وغیرہ ۔
(21) بیان آسان اور سادہ اَلْفَاظ پر مُشْتَمِل ہو عوام میں اَدَق (پیچیدہ)مضامین نہ چھیڑیں بلکہ اس اُصُول کَلِّمُوا النَّاسَ عَلٰی قَدْرِ عُقُوْلـِھِمْ( یعنی لوگوں کی عقلوں کے مُطابِق کلام کرو)کو مدِّ نَظَر رکھیں ۔ لوگ اولیاءُ اللہ عَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃ کی حِکایات و کرامات عموماً دلچسپی سے سنتے ہیں اور اگر ان کو سنتیں سکھائی جائیں تو ایک دَم قریب آجاتے ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع