30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عید عطارؔ اُس کی ہے جس کو خواب میں ان کی دید ہوتی ہے
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
عاشقانِ رَسول اِعْلَان سَماعَت فر مایئے : زید کا اَمْرِ الٰہی سے اِنْتِقَال ہوگیا ہے ، اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۔ مرحوم / مرحومہ کی نمازِ جنازہ (وَقْت اور مقام کا نام)ادا کی جائے گی ۔
مَدَنی پھول نمبر 1 : ضرورتاً مَرْحُوم یا مَرْحُومہ کی وَلْدیَّت یا گھر کے کسی ایسے فرد کا نام جس کی علاقے میں شُہْرَت ہو یا گھر کا ایڈریس بیان کرنے میں کوئی حَرَج نہیں، مَثَلًا زید بن خالد جو کہ بکر کا بھائی ہے یا زید بن خالد جن کی رہائش گلی نمبر 1 میں ہے وغیرہ ۔
مَدَنی پھول نمبر2 : اِنْتِقَال کے اِعْلَان میں اس طرح کا اضافہ نہیں ہونا چاہئے : مَثَلًا بڑے دُکھ سے اِعْلَان کر رہے ہیں یا ہمیں سَخْت اَفْسَوس ہے کہ(کیوں کہ دل میں دُکھ یا اَفْسَوس کی کَیْفِیَّت نہ ہوئی تو جھوٹ……… اگر مَعْمُولی سا دُکھ یا اَفْسَوس ہوا بھی ہو تب بھی ”بڑے دُکھ“………یا ”بڑا اَفْسَوس“کہنا………جھوٹ ہو گا)
تَوَجُّہ طَلَب بات : بعض اَہْلِ لغت کے نزدیک لَـفْظ فوتگی دُرُسْت نہیں، ”گی“وہاں لگاتے ہیں جس کے آخر میں ”ہ“آئے ، مَثَلًا دیوانہ سے دیوانگی، بندہ سے بندگی ۔
اِحْتِیاط : جب تک کنفرم نہ ہو، اِعْلَان نہ کیا جائے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی مَراکِز کی مَسَاجِد میں نَمازوں کے بعد کی دُعائیں
نماز فجر و عصر کے بعد کی دعائیں
نمازِ فَجْر اور نَمازِ عَصْر کے بعد دعا یوں مانگی جائے :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ طجَزَی اللّٰہُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَا ھُوَ اَھْلُہٗ ط اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ط اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ط اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ط اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِطرَبِّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِكَ وَشُکْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَط رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَط رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰـنِیْ صَغِیْرًا ط رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا ط رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ط وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ط(اَلفَاتِحَہ) اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًاط صَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلٰوۃً وَّسَلَامًا عَلَیْكَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِطسُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ(۱۸۰)وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ(۱۸۱)وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۸۲)بِحَقِّ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط
نماز ظہر، مغرب اور عشا کے فرضوں کے فوری بعد کی دُعا :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ طجَزَی اللّٰہُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَا ھُوَ اَھْلُہٗ ط اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ط اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ط اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ط اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِط رَبِّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِكَ وَشُکْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَط وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِنَا وَ مَولَانَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن ط بِرَحْمَتِكَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنط لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط
اِمامَت اِسلام کی بہترین خِدْمَت اور رِزْقِ حَلال کے حُصُول کا عظیم ذَرِیْعَہ ہے ۔ مگر لاپروائی کے باعِث مقتدیوں کی نَمازوں کا بوجھ مَعَاذَ اللہ جہنّم میں پہنچا سکتا ہے ۔ لہٰذا مُمکِن ہو تو عاشقانِ رسول کی عالمگیر مَدَنی تحریک دَعْوَتِ اسلامی کے عَالَمی مَدَنی مَرکَز فیضانِ مدینہ محلہ سوداگران پُر انی سبزی منڈی کراچی(یاجہاں مُیَسَّرآئے ) میں اِمَامَت کورس ضَرور ضَرور ضَرور کیجئے ۔
(1)بہارِ شَریعَت کے ابتدائی چار۴ حصّے پڑھ کر سمجھ لیجئے ، ضَرورتاً عُلَمائے اَھْلِسُنّت سے بھی رَاہ نُمائی حاصِل کیجئے ۔
(2) نَماز میں جو سورتیں اور اَذکار پڑھتے ہیں وہ لازِماً کسی سُنّی قاری کو سنا دیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع