30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1)مُمکِن ہو تو
رِسَالَہ ”وُضُو کا طریقہ“ کے پیچھے دیئے ہوئے وُضُو خانہ کے نقشے سے رَاہ نُمائی حاصِل کر کے وُضُو خانہ بنوائیے ۔
(2)مِعمار کے دلائل سُنے بِغیر دئیے ہوئے نقشے کے مُطابِق بنے ہوئے گھریلو وُضُو خانے کے بالائی (یعنی پاؤں رکھنے والے ) فرش کی ڈھلوان (slope) دو۲ اِنْچ رکھئے ۔
(3)اگر ایک سے زِیادہ نل لگوانے ہوں
تو دو۲ نلوں کے درمیان 25 اِنچ کا
فاصِلہ رکھئے ۔
(4)وُضو خانے کی ٹُونٹی میں حسبِ ضَرورت پلا سٹک کی نپل لگالیجئے ۔
(5) اگر پائپ دیوار کے باہَر سے لگوائیں تو حسبِ ضَرورت نشست گاہ ایک یا دو۲ انچ مزید دُور کرلیجئے ۔
(6) بہتر یہ ہے کہ کچّا کام کرواکر ایک آدھ باراس پر بیٹھ کر یا وُضو کرکے اچھّی طرح دیکھ لینے کے بعد پختہ کروائیے ۔
(7)وُضو خانے یا حماّم وغیرہ کے فرش پر ٹائلز(Tiles)لگوانے ہوں
تو کھُرْدَرے (Slip Resistance Tiles) لگوائیے تا کہ پھسلنے کا خطرہ
کم ہو جائے ۔
(8)بِہتر یہی ہے کہ وُضو خانے پر چار۴ خانے دار ٹائلز(Check Tiles) لگوائیے تا کہ پھسلنے کا اِمکان ہی نہ رہے ۔
(9)اگر چار۴ خانے دار ٹائلز نہ مل سکیں تو پاؤں رکھنے کی جگہ کاسِرا
اور اس کے بعد والی ڈھلوان کم از کم دو۲ دو۲ اِنْچ پتھریلی اور خوب کُھرْدَری
اور گول بنوائیے تاکہ ضَرورتاً پاؤں رگڑ کر میل چُھڑایا جاسکے ۔
(10)باورچی خانہ، غسل خانہ، بیتُ الخلا کا فرش، کُھلا صحن، چھت، مَسْجِد کا وُضُو خانہ اور جہاں جہاں پانی بہانے کی ضَرورت پڑتی ہے ان مقامات کے فرش کی ڈَھلوان (slope)مِعمار جو بتائے اُس سے بِلا جھجک ڈیڑھ گُنا (مَثَلًا وہ دو۲ انچ کہے تو آپ تین۳ انچ) رکھوائیے ۔ مِعمار تو یِہی کہے گا کہ آپ فکر مت کیجئے ایک قطرہ بھی پانی نہیں رُکے گا اگر آپ اِس کی باتوں میں آگئے تو ہوسکتا ہے ڈھلوان برابر نہ بنے لِہٰذا اُس کی بات پر اعتماد نہیں کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کا فائدہ آپ خود ہی دیکھ لیں گے کیوں کہ مُشاہَدہ یہی ہے کہ اکثر فرش وغیرہ پر جگہ جگہ پانی کھڑا رَہ جاتا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مَـجْلِس مَخْزَن (اسٹور)برائے فیضانِ مدینہ کے 38 مَدَنی پھول
(1) جو مَخْزَن (اسٹور) قائم کئے جائیں اس میں مخزن رجسٹر نافِذ کیا جائے اور اس کی کارکردگی لی جائے ۔
(2)جو اَشیا دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مَدَنی عطیات یا شخصیات سے حاصِل کی جائیں ان سے دَعْوَتِ اِسْلَامی جہاں مُناسِب سمجھے ، اِسْتِعمال کرنے کے اختیارات حاصِل کئے جائیں ۔
(3) مَخْزَن (اسٹور) کی ہر شے پر ٹیگ (Tag) لگا کر اس پر کَیْفِیَّت، مَدْ اور خُصُوصِیَّت ضَرور لکھی جائے ۔
(4)مَخْزَن (اسٹور) کے نِظام کو بہتر رکھنے کے لئے کارکردگی فارم بنایا جائے گا ۔ جس پر ماہانہ مَخْزَن(اسٹور) کی ہر شہر (مَدَنی مَرکَز)، کابینہ، زون اور پاکستان سَطْح پر کارکردگی لی جائے گی ۔
(5) مَخْزَن (اسٹور)مَجْلِسِ مَخْزَن برائے فَیْضَانِ مَدِیْنَہ کے طے شُدہ مَدَنی پھولوں کے مُطابِق تیّار کیا جائے ۔
(6) ہر مَخْزَن(اسٹور) (مَدَنی مَرکَز)کی ری چیکنگ (Rechecking) کا دورانیہ کم از کم ایک ماہ ہونا چاہئے اور مَخْزَن آڈٹ ٹیم (Stock Audit Team) ہر 3 ماہ بعد مَخْزَن (اسٹور) کی چیکنگ (Stocktaking) کرے گی ۔
(7) ہر کابینہ میں ایک بڑا مَخْزَن(اسٹور) بنا یا جائے ۔ شَرْعِی اور تنظیمی رَاہ نُمائی سے تمام شہروں میں مَوجُود ضَرورت سے زائد سامان کو کابینہ کے مَخْزَن(اسٹور) میں رکھا جائے اور ناکارہ سامان کو تنظیمی اور شَرْعِی رَاہ نُمائی لے کر فَرَوخْت کرنے کی ترکیب کی جائے ۔
(8) شَرْعِی اور تنظیمی رَاہ نُمائی کے ساتھ ہر مَدَنی مَرکَز میں مَخْزَن(اسٹور)کی ترکیب بنائی جائے اور کابینہ سَطْح پر بڑے فیضانِ مدینہ میں مَخْزَن (اسٹور)کی ترکیب بنائی جائے ۔ یہ نگرانِ کابینہ اور زونل نِگرانکے مَشْوَرَہ سے جگہ کا تَعَیُّن ہوگا اور مَجْلِسِ مَخْزَن برائے فَیْضَانِ مَدِیْنَہ پاکستان سے منظوری ملنے پر مَخْزَن(اسٹور)بنانے کی ترکیب کی جائے ۔
(9)سامان کی دَرَجَہ بندی کی جائے گی ۔ یعنی نَوعِـیَّت کے مُطابِق کہ فلاں فلاں اَقسام اور اس اس قَدْر مَالِیَّت کا زائد سامان کہاں کہاں یعنی زون، کابینہ اور شہر کے مَخْزَن (اسٹور) میں رکھا جاسکتاہے ۔ یہ کام مَجْلِسِ مَخْزَن برائے فَیْضَانِ مَدِیْنَہ کرے گی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع