30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گھبراتی، اسی طرح سلسلہ چلتا رہا، ایک دن بھائی جان سنّتوں بھرے اجتماع سے واپسی پر ’’بھیانک اُونٹ ‘‘ نامی ایک رسالہ لائے، رسالے کا نام بہت دلچسپ تھا، میں نے اس رسالے کو پڑھنا شروع کیا اورجب ان الفاظ کو پڑھا ’’ ہمارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر لوگوں نے پتھر برسائے مگر پھر بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دین کی تبلیغ فرمائی اور لوگ ہم پر پھول نچھاور کریں پھر بھی ہم جی چُرائیں ، ہم پنکھوں میں ، قالینوں پر بیٹھ کر بھی تبلیغ دین نہ کریں ‘‘ یہ پڑھ کر میرے دل کی کیفیت بدل گئی، پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عظیم قربانیوں کے متعلق پتا چلا تو بے ساختہ میری آنکھوں سے آنسو ں جاری ہو گئے، میں نے ہمّت کر کے درسِ فیضانِ سنت دینے کا ارادہ کر لیا اورجلد ہی اپنے گھر میں درس دینا شروع کر دیا جس میں محلے کی اسلامی بہنیں شرکت کرتیں ، درسِ فیضانِ سنّت کی برکت سے اسلامی بہنیں عمل کی طرف راغب ہونے لگیں ، کرم بالائے کرم یہ کہ دیگر اسلامی بہنوں نے بھی درس دیناشروع کر دیا یوں جلد ہی ہمارے علاقے میں تین جگہ درسِ فیضانِ سنّت شروع ہو گیا۔
امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطا کردہ مدنی مقصد ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘ کے مطابق اپنی اصلاح کے لیے مدنی انعامات پر عمل جاری ہے اور ساری دنیا کی اصلاح کی کوشش کے لیے تادم ِبیان عالمی مجلسِ مشاورت میں رُکن ہونے کی حیثیت سے سنّتیں عام کرنے میں مصروف ہوں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ تادم زندگی مدنی ماحول میں استقامت عطا فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجھ کو ملی ہے عزت عطار کی بدولت
چمکی ہے میری قسمت عطار کی بدولت
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول میں جہاں فرائض، نمازوں کی پابندی کا ذہن دیا جاتا ہے وہیں اشراق و چاشت کے نوافل پڑھنے کی بھی ترغیب دلائی جاتی ہے، یہ نوافل بڑے ہی اجر و ثواب کا باعث ہیں چنانچہ
حضرت سیدنا انس رَضِی اللہ تَعالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اکرم َصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جو فجر کی نماز جماعت سے پڑھ کر ذکرِ خدا کرتا رہا، یہاں تک کہ آفتاب بلند ہو گیا پھر دو رکعتیں پڑھیں تو اُسے پورے حج اور عمرہ کا ثواب ملے گا۔ (ترمذی، أبواب السفر، باب ما ذکر مما یستحب من الجلوس فی المسجدإلخ، ۲ / ۱۰۰، حدیث:۵۸۶) حدیثِ پاک میں ہے: جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں ، اللہ عَزَّوَجَلََّّ اس کے لیے جنت میں سونے کا محل بنائے گا۔ (ترمذی، أبواب الوتر، باب ماجاء فی صلاۃ الضحٰی، ۲ / ۱۷، حدیث:۴۷۲)
حضرت سیدنا ابو درداء رَضِی اللہ تَعالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور اکرم َصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : جس نے دو رکعتیں چاشت کی پڑھیں ، اسے غافلین میں نہیں لکھا جائے گا اور جو چار پڑھے اسے عابدین میں لکھا جائے گا اور جو چھ پڑھے اس دن اُس کی کفایت کی گئی اور جو آٹھ پڑھے اللہ تعالٰیاسے قانتین میں لکھے گا اور جو بارہ پڑھے اللہ تعالٰی اُس کے لیے جنت میں ایک محل بنائے گا اور کوئی دن یا رات نہیں جس میں اللہ عَزَّوَجَلََّّ بندوں پر احسان و صدقہ نہ کرے اور اس بندہ سے بڑھ کر کسی پر احسان نہ کیا جسے اپنا ذکر الہام کیا۔ (الترغیب والترھیب، الترغیب فی صلاۃ الضحٰی، ۱ / ۲۶۶، حدیث:۱۴)
گجرات (پنجاب، پاکستان) کی اسلامی بہن کا تحریری بیان کچھ یوں ہے کہ ہمارے گھر کا ماحول شروع سے ہی مذہبی تھا۔ والد محترم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع