30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قربان جائیے! ان کے حسن اخلاق پر انہوں نے نیکی کی دعوت دینا ترک نہ کیا ، وہ وقتاً فوقتاً ہمارے گھر آتی رہیں ، اس طرح کافی عرصہ گزر گیا، آخر ان کی استقامت کے سامنے میرے حیلے بہانے سب ناکارہ ہو گئے، ایک دن میں نے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ہامی بھر لی اور مقررہ دن سنّتوں بھرے اجتماع میں پہنچ گئی، وہاں غافل دلوں کو بیدار کرنے والے سنّتوں بھرے بیان اور اجتماع کے ایمان افروز مناظر سے قلب پر چھائی گناہوں کی سیاہی دور ہو گئی اورنیکیوں بھری راہ اختیار کرنے کا عزم مصمم کر لیا۔
اسلامی بہنوں کی مسلسل انفرادی کوشش کی برکت سے میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہوگئی ، خوفِ خدا اور عشقِ مصطفٰے سے سرشار اسلامی بہنوں کی رفاقت کیا ملی میری زندگی میں عمل کی بہار آ گئی، مزید اسلامی بہنوں نے مدنی انعامات پر عمل کرنے کی ترغیب دلائی، میں نے بھی باعمل بننے کے جذبےکے تحت مدنی انعامات کا رسالہ پُر کرنا شروع کر دیا، جس کی برکت سے مدنی برقع سجانے کی سعادت مل گئی، دعوتِ اسلامی کے فیضان سے رفتہ رفتہ میرے علم وعمل میں اضافہ ہوتا گیا، مدنی کاموں میں حصہ لینا میرا معمول بن گیا، مدنی انعامات پر عمل کرنے کے ایسے ثمرات ملے کہ میں ترقی کے زینے طے کرتی چلی گئی، تادمِ بیان عالمی مجلس مُشاوَرَت کی رکن ہونے کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت سرانجام دے رہی ہوں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے اِستِقامت کے ساتھ نیکی کی دعوت دینے کی برکت سے فلموں ڈراموں اور گانے باجوں کی شائقہ تائب ہو گئی، ہمیں اِستِقامت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے اور اخلاص کے ساتھ نیکی کی دعوت کاسلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔ جس بات کی تکرار ہوتی ہے وہ پتھر دل کو بھی موم بنا لیتی ہے مزید یہ کہ جب بھی ہم نیکی کی دعوت پیش کریں گے ہمیں ہربات پر ایک سال کی عبادت کا ثواب ملے گا چنانچہ حضرت موسی عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے عرض کیا: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! جو اپنے بھائی کو بُلائے۔ اُسے نیکی کا حکم کرے اور بُرائی سے روکے۔ اُس کی جزا کیا ہے؟ فرمایا: میں اُس کی ہر بات پر ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اُسے جہنم کی سزا دینے میں مجھے حیا آتی ہے۔ (مکاشفۃ القلوب، ص۴۸)
{4} علمِ دین حاصل کرنے کا شوق مل گیا
بابُ المدینہ (کراچی) کی اسلامی بہن کا بیان خلاصۃً پیشِ خدمت ہے کہ میرا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جس میں والدین بیٹیوں کواعلی تعلیم دلوانے کو ترجیح دیتے ہیں اِسی طرح میرے والد صاحب نے بھی مجھے اعلیٰ تعلیم دلوانے کیلئے پہلے اسکول اور اس کے بعد کالج میں داخل کروا دیا۔ اس وجہ سے میں موت کے بعد کے معاملات سے غافل تھی۔ فکرِ آخرت کی شمع کچھ یوں فروزاں ہوئی کہ جب میں BSC کر رہی تھی، ایک دن دعوت اسلامی کے مدَنی ماحول سے وابستہ میری بہن نے مجھے مختصر وقت میں تجوید و مخارج کے ساتھ قرآن پاک پڑھنے کے لیے مدرسۃُ المدینہ (بالغات) میں داخلہ لینے کی دعوت پیش کی۔ لہٰذا میں نے نور علم دین سے روشن و منوّر ہونے کے لیے مدرسۃُ المدینہ (بالغات) میں جانا شروع کر دیا مگر دنیوی علوم و فنون حاصل کرنے کی وجہ سے مدرسے میں پابندی سے حاضر نہ ہو پاتی، لیکن جب بھی مجھے مدرسے میں شرکت کی سعادت حاصل ہوتی توپڑھانے والی اسلامی بہن بڑی محبت و شفقت فرماتیں ، مدنی ماحول سے وابستہ ہونے، مزید علمِ دین حاصل کرنے کا جذبہ دلاتیں ، یوں رفتہ رفتہ دل پر چھائی غفلت دور ہونے لگی، علمِ دین کے فضائل سُن کر حصولِ علمِ دین کا جذبہ دل میں موجزن ہو گیا اسی جذبے کےتحت میں نے دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام ہونے والے شریعت کورس میں داخلہ لے لیا، ابتداً صبح جامعہ پڑھنے جاتی اوراس کے بعد ایم، فل کو وقت دیتی، یونہی 6ماہ بیت گئے، الغرض ا س مختصر شریعت کورس میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا، عبادت کا ذوق نصیب ہوا، دنیا ئے فانی کی حقیقت کا پتا چلا یوں میں مدنی ماحول سے وابستہ ہو گئی، اسی دوران مجھے ایک بڑے اسکول سے کیمیسٹری پڑھانے کی آفرہوئی مگر شریعت کور س کی برکت سے دل میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع