30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اجتماع میں پہنچ گئی، جہاں ایک روح پرور سماں تھا، حیاسے پرنور ماحول تھا، باپردہ اسلامی بہنوں میں آ کر پتا چلا کہ ایک مسلمان عورت کو کس قدر پردے کا اہتمام کرنا چاہئے، اس پُرفتن دور میں جبکہ ہمارے معاشرے میں خواتین پردے کی اہمیت سے ناواقف، اپنی قبر و آخرت کو فراموش کیے، شادی بیاہ اوردیگر گھریلو تقریبات میں بے پردگی کے گناہ سے اپنے نامۂ اعمال کو سیاہ کرتیں ہیں ایسے حالات میں دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بہنیں حیا و عفت کا عملی طور پر درس دیتی ہوئی بہت اچھی لگیں۔
الغرض سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی برکت سے میری غفلت دور ہو گئی، میں مقصدِ حیات سے واقف ہو گئی، زندگی کی انمول سانسوں کی قدر ومنزلت دل میں گھر کر گئی، میں نے اندھیری قبر روشن کرنے اور آخرت کی ذلت و رسوائی سے بچنے کے لیے مدنی ماحول اختیار کر لیا، پہلے خود نیکیوں سے غافل تھی مگر اب جہاں عمل کا جذبہ ملا وہیں دوسری مسلمان بہنوں کی اصلاح کی کُڑھن دل میں جاگزیں ہو گئی، میں حسبِ استطاعت علاقے کی اسلامی بہنوں کو مدنی ماحول کے قریب کرنے میں مشغول ہو گئی، مزید قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنے کے لیے جامعۃُ المدینہ (للبنات) میں داخلہ لے لیا، جوں جوں وقت گزرتا گیا میرے علم و عمل میں ترقی ہوتی گئی، تادمِ تحریر درسِ نظامی سے سندِ فراغت پانے کے بعد جامعات المدینہ (للبنات) میں خدمت کی سعادت پارہی ہوں ، ۱۴۳۵ھ مطابق2014ء میں مجھے عالمی مجلس مشاورت کا رکن بنادیا گیا ۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس مدنی بہار سے فیضانِ سنّت تحفے میں دینے کی اہمیت کا باخوبی اندازہ ہوتا ہے، عمومی طور پر آج ہمارے معاشرے میں تحفہ لینے دینے کا رواج عام ہو چکا ہے، مگر بدقسمتی سے اچھے ماحول سے دوری کے سبب لوگ اس بات سے نابلد ہوتے ہیں کہ تحفہ دینا کارِ ثواب ہے اور حدیثِ پاک میں تحفہ دینے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے :تَھَادَوْا تَحَابُّوْا، ایک دوسرے کو تحفہ دو آپس میں محبت بڑھے گی۔ (موطأ امام مالک ، ۲ / ۴۰۷، حدیث: ۱۷۳۱) لہٰذا جب ہم کسی کو کوئی چیزتحفۃً پیش کریں توحدیثِ پاک پر عمل کرنے کی نیّت کر کےاجر و ثواب کا حقدار بنیں ، مزید تحفے میں ایسی چیز پیش کریں جو سامنے والے کی دنیا و آخرت کے َسنوَرنے کا سبب بنے ، اس سلسلے میں امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے فکرِ آخرت کو اُجاگر کرنے والے مدنی رسائل، کیسٹ بیانات تحفۃً پیش کرنا مفید ہیں ، کیا بعید کہ ایک ولی کامل کی پُر تاثیر تحریر پڑھ کریاسنّتوں بھرا بیان سن کر کسی کی بگڑی سَنور جائے اور وہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر سنّتوں کی خدمت عام کرنے والے خوش نصیب اسلامی بھائیوں کی فہرست میں شامل ہو جائے یوں جہاں اس کی قبر و آخرت بہتر ہوگی وہیں آپ کو بھی ڈھیروں ڈھیر ثواب کا خزانہ ہاتھ آئے گا۔
باب المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کے تحریری بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ بچپن ہی سے نمازپڑھنے کے ساتھ ساتھ نعتِ رسولِ مقبول پڑھنے کا شوق تھا، مادر علمی میں بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکا لکھا ہوا نعتیہ کلام پڑھاکرتی ، اجتماعِ میلاد میں بھی محبت و عقیدت سے شرکت کرنے کا معمول تھا۔ مگر بدقسمتی سے علم دین سے دوری کے سبب فلمیں ڈرامے، گانے باجے دیکھنے سننے کے فعل بد میں گرفتار تھی، فلموں ڈراموں کے بے ہودہ مناظر دیکھ کر اپنی آخرت برباد کر رہی تھی، میری زندگی میں سنّتوں کی بہار کچھ اس طرح آئی کہ ایک دن دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ چند اسلامی بہنیں مدنی برقع سجائے نیکی کی دعوت دینے کے لیے ہمارے گھر تشریف لائیں اور دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی ، مگر افسوس! میں نے ان خیرخواہ اسلامی بہنوں کی دعوت قبول کرنے کے بجائے نفس و شیطان کے بہکاوے میں آ کر حیلے بہانے بنا کرٹال دیا، مگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع