30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھا مگر اب مکتبۃُ المدینۃ کی شائع شدہ کتابوں کی عام فہم اور خوفِ خدا و عشقِ مصطفٰے سے بھرپور تحریر پڑھنے کاموقع ملنے لگا جس کی برکت سے مجھے عبادت کا ذوق و شوق نصیب ہوا، جوں جوں وقت گزرتا گیا نیکی کی دعوت کا جذبہ بڑھتا گیا، اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر عالمی مجلسِ مشاورت کی رکن ہونے کی حیثیت سے اسلامی بہنوں میں سنّتوں کی خدمت عام کرنے میں مصروفِ عمل ہوں ، اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی غلامی اور مدنی ماحول میں استقامت عطافرمائے ۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا کس طرح فکرِ آخرت سے نابلد اسلامی بہن قبر و آخرت کی تیاری کرنے کے جذبے سے مالا مال ہو گئی اور اپنی زندگی کی بقیہ سانسوں کو غنیمت جانتے ہوئے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گئی، مخارج کے ساتھ قرآنِ پاک کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدرسۃُ المدینہ (بالغات) میں شرکت کرنا معمول بنا لیا مزید علمِ دین کا ایسا ذوق نصیب ہوا کہ عالمہ کورس کرنے کی سعادت حاصل کرنے لگی، علمِ دین پڑھنے، پڑھانے اور اس کے اجر و ثواب کی فضیلت کے کیاکہنے؟ اس سے انسان کی دنیا و آخرت سنور جاتیں ہیں اور یہی علم ذریعہ نجات ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں علمِ دین جاننے والوں کی بزرگی اور فضیلت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ- (پ۲۸، المجادلۃ:۱۱) ترجمہ کنزالایمان: اﷲتعالٰی تمہارے ایمان والوں کے اور ان لوگوں کے جن کو علم دیا گیا ہے بہت سے درجات بلند فرمائے گا۔
حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بہت سی حدیثوں میں علمِ دین کی فضیلت بیان فرمائی ہے چنانچہ ارشاد فرمایا:عالم کی فضیلت عابد پر ویسی ہی ہے جیسی میری فضیلت تمہارے ادنیٰ پر پھر فرمایا کہ اﷲتعالٰی اور اس کے فرشتے اور تمام آسمان و زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور یہاں تک کہ مچھلی سب اس کی بھلائی چاہنے والے ہیں جو عالم کہ لوگوں کو اچھی باتوں کی تعلیم دیتاہے۔ (ترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، ۴ / ۳۱۳، حدیث:۲۶۹۴)
ایک اسلامی بہن نے اپنے مدنی ماحول سے وابستگی کے احوال کچھ یوں بیان کیے کہ مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں سنّتوں کی قدر و منزلت سے نابلد تھی، میرے دل میں سنـّتِ رسول کی محبت کچھ یوں اُجاگر ہوئی، ۱۴۱۶ ھ مطابق 1996ء کی بات ہے، دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بہن سے میری ملاقات ہو گئی، جو نیکی کی دعوت کے جذبے سے سرشار تھیں انہوں نے میری قبر و آخرت کی بہتری کی خاطر مجھے شیخ طریقت، امیرِاہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایۂ ناز تالیف ’’فیضان سنت ‘‘ تحفۃً پیش کرتے ہوئے اسے پڑھنے کی ترغیب دلائی۔ ان کا پیار بھرا انداز دیکھ کر میں نے وہ کتاب لے لی اور جب اس کا مطالعہ شروع کیا تو میں نے تحریر کو انتہائی عام فہم پایا مزید جگہ بہ جگہ بزرگانِ دین کے خوفِ خدا اور عشقِ رسول کے واقعات موجود تھے جنہیں پڑھ کر اولیاء کرام کی محبت و عقیدت دل میں جاگزیں ہو گئی خصوصاً اِس کتاب کے باب ’’ فیضانِ درود و سلام ‘‘ میں درودِ پاک پڑھنے کے فضائل پرمبنی روایات کے ساتھ ساتھ درود و سلام کی برکات سے بھر پور واقعات پڑھ کر دل میں عشقِ رسول کی شمع فروزاں ہو گئی، درود وسلام پڑھنے کامعمول بن گیا یوں میں فیضانِ سنت کی برکت سے دعوتِ اسلامی کے مشکبار ماحول سے آشنا ہو گئی مگر ابھی تک مدنی ماحول سے وابستہ نہیں ہوئی تھی، ایک مرتبہ میری ملاقات مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بہن سے ہو گئی، انہوں نے بھی شفقت فرمائی اور محبت بھرے انداز میں مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی، فیضانِ سنّت کی پرتاثیر تحریر کی برکت سے میں پہلے ہی مدنی ماحول سے متأثر ہو چکی تھی لہٰذا میں نے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہو کر علمِ دین کی برکتوں سے مالا مال ہونے کی نیّت کر لی اور مقررہ دن سنّتوں بھرے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع