30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیاہوا؟ میں نے اپنا خدشہ ظاہِرکر دیا تو فرمایا: جبرئیلِ امین نے مجھ سے کہا: کیا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ بات خوش نہیں کرتی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ َّ فرماتاہے: جوتم پر دُرُودِ پاک پڑھے گا میں اُس پر رَحمت نازِل فرماؤں گا اور جو تم پر سلام بھیجے گا میں اُس پر سلامتی اُتاروں گا۔ (مسند احمد، حدیث عبدالرحمن بن عوف الزھری، ۱ / ۴۰۶، حدیث:۱۱۶۶۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
راولپنڈی (پنجاب، پاکستان) کی مقیم اسلامی بہن کے مکتوب کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیرغیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میری دین کی طرف بالکل رغبت نہیں تھی۔ نہ نمازوں کی محافظت کا مدنی ذہن تھا نہ ہی پردے کی اہمیّت کا علم تھا، بس دنیاوی تعلیم کے حصول کا جُنون سر پر سوار تھا، قبر و آخرت کی تیاری سے یکسر غافل ہو کر دنیاوی مال کے حصول کے لیے میں نے ایک جگہ ملازمت بھی اختیار کی ہوئی تھی ، ساتھ ساتھ پڑھائی کا سلسلہ بھی جاری تھا، میری زندگی کا رُخ بدلنے کا سبب یوں بنا کہ دلوں میں خوفِ خدا اور عشقِ مصطفٰے کی شمع فروزاں کرنے والی انمول کتاب ’’فیضان سنّت ‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا مزید مدنی انعامات کے رسالے میں موجود مدنی پھول پڑھے جس کی برکت سے مجھے یہ احساس ہوا کہ میں اپنی سانسوں کے انمول موتی صرف دنیا کی راحتیں اور آسائشیں حاصل کرنے میں صرف کر رہی ہوں ، مجھے اپنی قبر و آخرت کے لیے بھی نیکیوں کا ذخیرہ جمع کرنا چاہئے، سانسوں کی قدر کرتے ہوئے نیکی کی راہ اختیار کر کے اپنا نامۂ اعمال روشن کرنا چاہئے، لہٰذا میں نے اپنے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیاری پیاری سنّتوں پر عمل کرنے کا ارادہ کر لیا، علم و عمل سے مالا مال ہونے کے لیے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنا اپنا معمول بنا لیا، جہاں سنّتوں بھرے بیانات میں مقصدِ حیات اور نیک اعمال کے اجر و ثواب کے بارے میں سن کر مزید نیکی کے جذبے کو مدینے کے چار چاند لگ گئے، خوش قسمتی سے اسی دوران ہمارے شہر راولپنڈی میں دعوتِ اسلامی کے تحت ایک عظیم الشان سنّتوں بھرے اجتماع کا انعقاد ہوا، جس میں بیان کرنے کے لیے شیخ طریقت، امیرِاہلسنّت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بنفسِ نفیس تشریف لا نے والے تھے ، ہر طرف امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی آمد کی دھوم مچی ہوئی تھی، عاشقانِ رسول بڑے جوش و خُروش سے اجتماع کی دعوت عام کرنے میں مصروف تھے، ایک ولی کامل کے ملفوظات سے مُستَفِیض ہونے کے لیے اس سنّتوں بھرے اجتماع میں اسلامی بہنوں کیلئے پردے کا انتظام تھا، میری قسمت کا ستارا چمکا کہ میں بھی بیان سننے کے لیے پہنچ گئی۔
زندگی میں پہلی بار سنـّتوں کی بہار دیکھ کر بہت اچھا لگا، کثیر تعداد میں اسلامی بہنیں بھی اجتماع کی برکتیں لوٹنے آئی ہوئیں تھیں ، جومدنی برقع پہنے ہوئے تھیں ، میں بھی ایک طرف بیٹھ کر سنّتوں بھرے اجتماع کی برکتوں سے اپنا خالی دامن بھرنے لگی، جب شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بیان شروع ہوا تو اسلامی بہنیں بغوربیان سننے لگیں، میں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو گئی، جوں جوں پُرتاثیر بیان سنتی گئی، دل کی کیفیت بدلتی گئی، دورانِ بیان ہی میں نے تہہ دل سے اپنی اندھیری قبر نیکیوں سے روشن کرنے اور شفاعتِ رسول کی حقدار بننے کے لیے نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے کا عزم کر لیا، اختتامی دعا کے وقت اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے مغفرت طلب کی، یوں میں اس اجتماعِ پاک سے نیکی کی دعوت عام کرنے کا جذبہ لیے گھر لوٹی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی کام کرنے میں مشغول ہو گئی، دعوتِ اسلامی کے تحت لگنے والے مدرسۃُ المدینہ (بالغات) میں تجوید کے ساتھ قرآنِ پاک سیکھنے کی سعادت حاصل کرنے لگی مزید سنّتوں بھرے مدنی ماحول کی برکت سے علمِ دین کی فضیلت کا پتا چلا تو تحصیلِ علمِ دین کا شوق دل میں پیدا ہو گیا، میں نے بقیہ سانسوں کو غنیمت جانتے ہوئے قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنے کے لیے درس نظامی میں داخلہ لے لیا، مدنی ماحول سے قبل بس دنیاوی علوم و فنون کی کتابیں پڑھنا میرا معمول
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع